مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّبَيْرِ يَعْنِي ابْنَ خِرِّيتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى غَرَبَتْ الشَّمْسُ، وَبَدَتْ النُّجُومُ، وَعَلِقَ النَّاسُ يُنَادُونَهُ الصَّلَاةَ الصلاة، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَجَعَلَ يَقُولُ: الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، قَالَ: فَغَضِبَ، فقَالَ: أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ؟" شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ" , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَجَدْتُ فِي نَفَسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَسَأَلْتُهُ، فَوَافَقَهُ.
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک دن عصر کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے سامنے وعظ فرمایا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نظر آنے لگے، لوگ نماز، نماز پکارنے لگے، اس وقت لوگوں میں بنو تمیم کا ایک آدمی بھی تھا، اس نے اونچی آواز سے نماز، نماز کہنا شروع کر دیا، اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو غصہ آ گیا اور وہ فرمانے لگے: کیا تو مجھے سنت سکھانا چاہتا ہے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشا کے درمیان جمع صوری فرمایا ہے، راوی حدیث عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے دل میں اس کے متلعق کچھ خلجان سا پیدا ہوا، چنانچہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی اس کی موافقت کی۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2269]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح. م: 705
الرواة الحديث:
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عبد الله بن العباس القرشي