مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2272
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، هُنَّ لَهُمْ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ مِنْ دُونِ ذَلِكَ، فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات مقرر فرمایا اور فرمایا کہ ”یہ جگہیں یہاں رہنے والوں کے لئے بھی میقات ہیں اور یہاں سے گزرنے والوں کے لئے بھی - جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں - اور جو لوگ اس سے پیچھے رہتے ہوں، وہ وہیں سے احرام باندھ لیں گے جہاں سے وہ ابتدا کریں گے، حتی کہ اہل مکہ کا احرام وہاں سے ہو گا جہاں سے وہ ابتدا کریں گے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2272]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1524، م: 1181
الرواة الحديث:
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي