مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنِي قَابُوسُ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِمْ مُسْرِعًا، قَالَ: حَتَّى أَفْزَعَنَا مِنْ سُرْعَتِهِ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْنَا، قَالَ:" جِئْتُ مُسْرِعًا أُخْبِرُكُمْ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَأُنْسِيتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، وَلَكِنْ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف بڑی تیزی سے آتے ہوئے دکھائی دیئے، جسے دیکھ کر ہم گھبرا گئے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب پہنچے تو فرمایا کہ ”میں تمہارے پاس تیزی سے اس لئے آ رہا تھا کہ تمہیں شب قدر کے بارے بتا دوں لیکن اس درمیانی فاصلے میں ہی مجھے اس کی تعیین بھلا دی گئی، البتہ تم اسے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں تلاش کرو۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2352]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح. راجع ما قبله
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2352 in Urdu
الحصين بن جندب المذحجي ← عبد الله بن العباس القرشي