یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 24545
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ يَعْنِي ابْنَ ضَمْرَةَ بْنَ حَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى غُطَيْفٍ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: مَنْ الرَّجُلُ؟ قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى غُطَيْفِ بْنِ عَازِبٍ، فَقَالَتْ: ابْنُ عُفَيْفٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلَهَا عَنْ " الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، أَرَكَعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" قَالَتْ لَهُ: نَعَمْ . وَسَأَلَهَا عَنْ ذَرَارِيِّ الْكُفَّارِ؟ فَقَالَتْ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُمْ مَعَ آبَائِهِمْ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِلَا عَمَلٍ؟ قَالَ:" اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ" .
عبداللہ بن ابی قیس " جو غطیف بن عفیف کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ام المومنین حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں سلام کیا، انہوں نے پوچھا کون آدمی ہے؟ عرض کیا کہ میں عبداللہ ہوں، غطیف کا غلام، انہوں نے پوچھا جس کے والد کا نام عفیف ہے؟ عرض کیا جی ام المومنین! پھر انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! انہوں نے کفار کے نابالغ بچوں کے متعلق پوچھا تو حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ ہوں گے، حالانکہ میں نے یہ عرض بھی کیا تھا کہ یا رسول اللہ! بغیر کسی عمل کے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ معلوم ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24545]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطراب عبدالله بن أبى قيس فيه
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 24545 in Urdu
عبد الله بن عفيف النصري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق