علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 24720
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رُمِيتُ بِمَا رُمِيتُ بِهِ وَأَنَا غَافِلَةٌ، فَبَلَغَنِي بَعْدَ ذَلِكَ رَضْخٌ مِنْ ذَلِكَ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي، إِذْ أُوحِيَ إِلَيْهِ، وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ، يَأْخُذُهُ شِبْهُ السُّبَاتِ، فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدِي إِذْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَهُوَ يَمْسَحُ عَنْ جَبِينِهِ، فَقَالَ: " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ" فَقُلْتُ: بِحَمْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا بِحَمْدِكَ، فَقَرَأَ: الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ حَتَّى بَلَغَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ سورة النور آية 4 - 26 .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب مجھ پر تہمت لگائی گئی تو میں اس سے ناواقف تھی، کچھ عرصے بعد مجھے اس کے متعلق پتہ چلا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان پر وحی نازل ہونے لگی، نزولِ وحی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اونگھ جیسی کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی، بہرکیف! نزول وحی کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھا یا اور پیشانی سے پسینہ پونچھنے لگے اور فرمایا عائشہ! خوشخبری قبول کرو، میں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے، آپ کا نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیات تلاوت الَذِینَ یَرمُونَ المُحصَنَاتِ حَتی بَلَغَ مُبرَوُونَ مِمَا بَقُولوُ نَ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24720]
حکم دارالسلام: حديث صحيح دون ذكر الآيات، وهذا إسناد ضعيف لأجل عمر بن أبى سلمة، فقد جاء فى الرواية الصحيحة: 25623، فأنزل الله عزو جل: ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ..﴾
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 24720 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق