مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1171. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 24758
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا، مَرّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا" .
ابوبکر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب حضرت رافع بن خدیج کا انتقال ہوا تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میت پر اہل محلہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے، میں عمرہ کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن کی بخشش فرمائے، وہ جھوٹ نہیں بول رہے، البتہ وہ بھول گئے ہیں، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت کے پاس سے گذرے تھے جس پر لوگ رو رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب ہورہا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 24758]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1289، م: 932
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 24758 in Urdu
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق