مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عائشة رضي الله عنها
حدیث نمبر: 26247
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ أُمِّي , تُحَدِّثُ، أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً , وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ , قَالَتْ: فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ , وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ , فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ؟ قَالَتْ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ , لَا أَحْسِبُهَا إِلَّا قَالَتْ: ثَلَاثَ مِرَارٍ , لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ , وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ , وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى إِثْرِ الْأُخْرَى , وَإِنَّهُ لَيَقُولُ: " اكْتُبْ عُثْمَانُ" قَالَتْ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا عَلَيْهِ كَرِيمًا .
فاطمہ بنت عبدالرحمن اپنی والدہ کے حوالے سے نقل کرتی ہیں کہ ان کے چچا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہہ رہا ہے اور آپ سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھ رہا ہے، کیونکہ لوگ ان کی شان میں گستاخی کرے لگے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جو لعنت کرے، اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو، واللہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پشت مبارک میرے ساتھ لگائے ہوتے تھے اور اسی دوران حضرت جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آجاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے تھے! عثمان! لکھو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے اپنی دو بیٹیوں سے ان کا نکاح کیا تھا، اللہ یہ مرتبہ اسی کو دے سکتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی نگاہوں میں معزز ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26247]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لأجل عمر بن إبراهيم اليشكري
الرواة الحديث:
جدة عمر بن إبراهيم اليشكري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق