مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2629
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَنِّعًا بِثَوْبٍه، فَقَالَ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ النَّاسَ َيَكْثُرُونَ، وَإِنَّ الْأَنْصَارَ يَقِلُّونَ، فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ أَمْرًا يَنْفَعُ فِيهِ أَحَدًا، فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں سر پر کپڑا لپیٹے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا: ”لوگو! انسان بڑھتے رہیں گے لیکن انصار کم ہوتے رہیں گے، اس لئے تم میں سے جس شخص کو حکومت ملے اور وہ کسی کو اس سے فائدہ پہنچا سکے تو انصار کی خوبیوں کو قبول کرے اور ان کی لغزشات سے چشم پوشی کرے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2629]
حکم دارالسلام: إسناده جيد
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي