مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1183. حديث ميمونة بنت الحارث الهلالية زوج النبى صلى الله عليه وسلم
حدیث نمبر: 26816
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، قَالَ حَسِبْتُهُ عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنَّهَا اسْتَدَانَتْ دَيْنًا، فَقِيلَ لَهَا: تَسْتَدِينِينَ وَلَيْسَ عِنْدَكِ وَفَاؤُهُ؟ قَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ أَحَدٍ يَسْتَدِينُ دَيْنًا، يَعْلَمُ اللَّهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ، إِلَّا أَدَّاهُ" .
حضرت میمونہ کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے کسی سے قرض لیا کسی نے ان سے کہا کہ آپ قرض تو لے رہی ہیں اور آپ کے پاس اسے ادا کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بھی کسی سے قرض لیتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کا اسے ادا کرنے کا ارادہ بھی ہے تو اللہ اسے ادا کروا دیتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26816]
حکم دارالسلام: صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، سالم لم يسمع من ميمونة
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 26816 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية