مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2920
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لِكُلِّ نَبِيٍّ حَرَمٌ، وَحَرَمِي الْمَدِينَةُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُهَا بِحُرَمِكَ، أَنْ لَا يُؤْوَى فِيهَا مُحْدِثٌ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا، وَلَا تُؤْخَذُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کا ایک حرم تھا اور میرا حرم مدینہ ہے، اے اللہ! میں مدینہ کو آپ کے حرم کی طرح حرم قرار دیتا ہوں، یہاں کسی بدعتی کو ٹھکانہ نہ دیا جائے، یہاں کی گھاس نہ کاٹی جائے، یہاں کا کانٹا نہ توڑا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے، سوائے اس شخص کے جو اعلان کر سکے۔“ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2920]
حکم دارالسلام: حسن لغيره، دون قوله : لكل نبي م، وهذا إسناد ضعيف
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 2920 in Urdu
شهر بن حوشب الأشعري ← عبد الله بن العباس القرشي