مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 2956
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ، فَدَارَتْ الْيَمِينُ عَلَى أَحَدِهِمَا، فَحَلَفَ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا لَهُ عَلَيْهِ حَقٌّ، فَنَزَل َجِبْرِيلُ، فَقَالَ: مُرْهُ فَلْيُعْطِهِ حَقَّهُ، فَإِنَّ الْحَقَّ قِبَلَهُ، وَهُوَ كَاذِبٌ، وَكَفَّارَةُ يَمِينِهِ" مَعْرِفَتُهُ بِاللَّهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَوْ شَهَادَتُهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک پر قسم آ پڑی، اس نے قسم کھا لی کہ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، اس شخص کا مجھ پر کوئی حق نہیں، اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور کہنے لگے کہ اسے حکم دیجئے کہ اپناحق اسے دے دے، حق تو اسی کا ہے اور وہ جھوٹا ہے اور اس کی قسم کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے ایک ہونے کی گواہی دیتا ہے اور اس کی معرفت اسے حاصل ہے۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 2956]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك بن عبدالله سيئ الحفظ، وعطاء بن السائب قد اختلط
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥زياد الأعرج، أبو يحيى زياد الأعرج ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥عطاء بن السائب الثقفي، أبو محمد، أبو السائب، أبو زيد عطاء بن السائب الثقفي ← زياد الأعرج | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥شريك بن عبد الله القاضي، أبو عبد الله شريك بن عبد الله القاضي ← عطاء بن السائب الثقفي | صدوق سيء الحفظ يخطئ كثيرا | |
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر هاشم بن القاسم الليثي ← شريك بن عبد الله القاضي | ثقة ثبت |
زياد الأعرج ← عبد الله بن العباس القرشي