یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. مسند عبد اللہ بن العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنهما
حدیث نمبر: 3162
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ فِي رَمَضَانَ، حِينَ فَتَحَ مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِعُسٍّ مِنْ شَرَابٍ أَوْ إِنَاءٍ، فَشَرِبَ. فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے ارادے سے مدینہ منورہ سے ماہ رمضان میں روانہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن جب آپ مقام عسفان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تاکہ سب لوگ دیکھ لیں، اور اسے نوش فرما لیا، اس لئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مسافر کو اجازت ہے خواہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (بعد میں قضا کر لے)۔ [مسند احمد/ومن مسند بني هاشم/حدیث: 3162]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4279، م : 1113
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 3162 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي