مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 7357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : جَاءَ نِسْوَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ مِنَ الرِّجَالِ، فَوَاعِدْنَا مِنْكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ، قَالَ:" مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانٍ"، وَأَتَاهُنَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، وَلِذَلِكَ الْمَوْعِدِ، قَالَ: فَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُنَّ، يَعْنِي:" مَا مِنَ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثًا مِنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُهُنَّ، إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوْ اثْنَانِ؟ قَالَ:" أَوْ اثْنَان".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! مردوں کی موجودگی میں ہم آپ کے پاس بیٹھنے سے محروم رہتی ہیں آپ ایک دن ہمارے لئے مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر (دین سیکھ) سکیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم فلاں شخص کے گھر میں اکٹھی ہوجانا اور اس دن اس جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے منجملہ ان باتوں کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمائیں ایک بات یہ بھی تھی کہ تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے (فوت ہو جائیں) اور وہ ان پر صبر کرے وہ جنت میں داخل ہو گی کسی عورت نے پوچھا اگر دو ہوں تو کیا حکم ہے؟ فرمایا: دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7357]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2632.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥سهيل بن أبي صالح السمان، أبو يزيد سهيل بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان | ثقة | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← سهيل بن أبي صالح السمان | ثقة حافظ حجة |
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي