مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 7407
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" لَتُنَبَّأَنَّ أَنْ تَتَصَدَّقَ، وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ، تَأْمُلُ الْبَقَاءَ، وَتَخَافُ الْفَقْرَ، وَلَا تَمَهَّلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ: لِفُلَانٍ كَذَا، وَلِفُلَانٍ كَذَا، أَلَا وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے اس کا جواب ضرور ملے گا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو تمہیں فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ توفلاں (ورثاء) کا ہو چکا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 7407]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032.
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 7407 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي