مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ"، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ" . قال عبد الله بن أحمد: وقَالَ أَبِي فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: اضْرِبْ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ، فَإِنَّهُ خِلَافُ الْأَحَادِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي قَوْلَهُ:" اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا وَاصْبِرُوا".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو قریش کا یہ قبیلہ ہلاک کردے گا لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا اگر لوگ الگ ہی رہیں تو بہتر ہے عبداللہ بن احمد۔ جو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے صاحبزادے ہیں کہتے ہیں کہ میرے والد نے مرض الموت میں فرمایا اس حدیث پر نشان لگا دو کیونکہ یہ دیگر احادیث کے خلاف ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ ان کی بات سنو اطاعت کرو اور صبر کرو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8005]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3604، م: 2917
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 8005 in Urdu
أبو زرعة بن عمرو البجلي ← أبو هريرة الدوسي