مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8589
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، بِمَكَّةَ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ: أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا!، فَقَالَ مَرْوَانُ: مَا فَعَلْتُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصُّكُوكِ وَقَدْ" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ"، قَالَ: فَخَطَبَ النَّاسَ مَرْوَانُ، فَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا ، قَالَ سُلَيْمَانُ: فَنَظَرْتُ إِلَى حَرَسِ مَرْوَانَ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ.
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تجار کے درمیان چیک کا رواج پڑگیا تاجروں نے مروان سے ان کے ذریعے خریدو فروخت کی اجازت مانگی اس نے انہیں اجازت دے دی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہ اس کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: کہ تم نے سودی تجارت کی اجازت دے دی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ سے قبل غلہ کی اگلی بیع سے منع فرمایا: ہے؟ چنانچہ مروان نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس سے منع کردیا۔ سلیمان کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ مروان نے محافظوں کا ایک دستہ بھیجا جو غیرمزاحم لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننے لگے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8589]
حکم دارالسلام: صحیح ، و إسنادہ قوي ، م : 1528
الرواة الحديث:
Musnad Ahmad Hadith 8589 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← أبو هريرة الدوسي