مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 8890
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي فَيَجْمَعُوا حَطَبًا، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ، ثُمَّ أُخَالِفُ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّ لَهُ بِشُهُودِهَا عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ، لَشَهِدَهَا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهَا لَأَتَوْهَا وَلَوْ حَبْوًا" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا ارادہ ہوا کہ میں اپنے جوانوں کو حکم دوں وہ لکڑیاں جمع کریں پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں جو لوگوں کی امامت کرے اور میں پیچھے سے ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں شریک نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ لگادوں واللہ اگر ان میں سے کسی کو پتہ چل جائے کہ نماز میں آنے سے اسے ایک موٹی تازی سری یا دو عمدہ کھر ملیں گے تو وہ ضرور اس میں شرکت کرے حالانکہ اگر انہیں اس کے ثواب کا پتہ ہوتا تو وہ نماز میں ضرور شرکت کرتے خواہ انہیں گھٹنوں کے بل گھس کر آنا پڑتا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 8890]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2420، م: 651، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي سعد
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عجلان مولى فاطمة عجلان مولى فاطمة ← أبو هريرة الدوسي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله محمد بن عجلان القرشي ← عجلان مولى فاطمة | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن ميسر الجعفي، أبو سعد محمد بن ميسر الجعفي ← محمد بن عجلان القرشي | متروك الحديث |
عجلان مولى فاطمة ← أبو هريرة الدوسي