مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 9099
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ مَوْلَى حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَاءَهُ نَاسٌ صَيَّادُونَ فِي الْبَحْرِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَهْلُ أَرْمَاثٍ، وَإِنَّا نَتَزَوَّدُ مَاءً يَسِيرًا إِنْ شَرِبْنَا مِنْهُ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا نَتَوَضَّأُ بِهِ، وَإِنْ تَوَضَّأْنَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا نَشْرَبُ، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ، فَهُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سمندر میں شکار کرنے والے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں اور اگر پی لیں تو وضو کے لئے پانی نہیں ملتا کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9099]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، ووقع فى إسناد المصنف هنا خطأ، والصواب أنه من رواية سعيد بن سلمة عن المغيرة ابن أبي بردة عن أبي هريرة
الرواة الحديث:
المغيرة بن أبي بردة الكناني ← أبو هريرة الدوسي