مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 9332
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَأَتَى عَلَى جُمْدَانَ، فَقَالَ: " هَذَا جُمْدَانُ , سِيرُوا , سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ"، قَالُوا: وَمَا الْمُفَرِّدُونَ؟، قَالَ:" الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا"، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفَرْ لِلْمُحَلِّقِينَ"، قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟، قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ" , قَالُوا: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ , قَالَ:" وَالْمُقَصِّرِينَ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے کسی راستے میں چل رہے تھے حتیٰ کہ جمدان نامی جگہ پر پہنچ کر فرمایا یہ جمدان ہے روانہ ہوجاؤ اور " مفردون " سبقت لے گئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مفردون کون لوگ ہوتے ہیں؟ فرمایا جو اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہتے ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ حلق کرانے والوں کی بخشش فرما صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! قصر کرانے والوں کے لئے بھی دعا کیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ اے اللہ! حلق کرانے والوں کی مغفرت فرما۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر کرانے والوں کو بھی اپنی دعا میں شامل فرما لیا۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9332]
حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا سند حسن في المتابعات ، خ : 1728 ، م : 1302 ، 2676
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي