مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. مسند ابي هريرة رضي الله عنه
حدیث نمبر: 9383
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ قُرَابُهُ، قَالَ ثُمَّ جَاءَ وَفِي النَّاسِ رِقَّةٌ , وَهُمْ عِزُونَ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: " لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَدَبَ النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَجَابُوا لَهُ، وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَيَتَخَلَّفَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الدُّورِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ، فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ" .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو اتنا مؤخر کردیا کہ قریب تھا کہ ایک تہائی رات ختم ہوجاتی، پھر وہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا اگر کوئی آدمی لوگوں کے سامنے ایک ہڈی یا دو کھروں کی پیشکش کرے تو وہ ضرور اسے قبول کرلیں، لیکن نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے، میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 9383]
حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2420 ، م : 651
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥عاصم بن أبي النجود الأسدي، أبو بكر عاصم بن أبي النجود الأسدي ← أبو صالح السمان | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← عاصم بن أبي النجود الأسدي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥عفان بن مسلم الباهلي، أبو عثمان عفان بن مسلم الباهلي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي