علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1176
حدیث نمبر: 1176
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: يَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ الْمُوعِدِ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَصْحَبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَلْءِ بَطْنِي، وَكَانَتِ الأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْواقِ، وَإِنِّي شَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ: " مَنْ يَبْسُطُ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي، ثُمَّ يَقْبِضَهُ إِلَيْهِ، فَلا يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي"، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ حَتَّى إِذَا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ قَبَضَّتُهَا إِلَيَّ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدُ سَمِعْتُهُ مِنْهُ , قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ الْمَسْعُودِيُّ: وَقَامَ آخَرُ فَبَسَطَ رِدَاءَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَبَقَكَ بِهَا الْغُلامُ الدَّوْسِيُّ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لوگ یہ کہتے ہیں: کہ ابوہریرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت احادیث نقل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے، میں ایک غریب شخص تھا میں اپنے پیٹ میں (ضروری) خوراک ڈال کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتا تھا جبکہ انصار اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے مہاجرین بازار، میں سودے اور لین دین کیا کرتے تھے ایک مرتبہ میں ایک محفل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کون شخص میری گفتگو ختم کرنے تک اپنی چادر کو بچھائے گا اور پھر اسے سمیٹ لے گا، تو وہ میری زبانی جو بھی بات سنے گا اسے کبھی نہیں بھولے گا“، تو میں نے اپنے جسم پر موجود چادر کو بچھا دیا یہاں تک کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات مکمل کی، تو میں نے اسے سمیٹ لیا اس ذات کی قسم! جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی کوئی بات کبھی نہیں بھولا۔ سفیان کہتے ہیں: مسعود نامی راوی نے یہ بات نقل کی ہے پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے بھی اپنی چادر کو بچھایا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”دوس کا رہنے والا جوان تم پر سبقت لے گیا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1176]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 118، 119، 2047، 2350، 3648، 7354، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2492، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7153، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3092، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5835، 5836، 5837، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3834، 3835، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 262، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7395، 7396، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6219، 6229، 6248»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت عالم | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 1176 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1176
فائدہ:
اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث سے بڑی محبت کرتے تھے، اور انہوں نے سب سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی محبت تھی، اس لیے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہتے اور احادیث سنتے تھے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک طالب علم کو تعلیم کی تمام رکاوٹوں کو پس پشت ڈالتا چاہیے، اور ہمیشہ استاذ کے ساتھ چمٹے رہنا چاہیے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسکینی علم کے سامنے رکاوٹ نہیں ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مال کو سنبھال کر اس کو اللہ کے سپرد کرنا چاہیے، اور اس کی نگرانی بھی کرنی چاہیے، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ خرید و فروخت (تجارت) سنت ہے۔
اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کاروبار کے ساتھ انسان علم حاصل کر سکتا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک استاذ کو شاگرد کے لیے کھلا وقت نکالنا چاہیے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ استاذ کو ہر وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے طلباء کو سمجھ آ جائے، اور ہمیشہ طلباء کے لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قسم صرف اللہ کی کھانی چاہیے، اگر رسول کی قسم کھانی جائز ہوتی تو سیدنا ابوہر رضی اللہ عنہ ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھاتے۔
اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث سے بڑی محبت کرتے تھے، اور انہوں نے سب سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی محبت تھی، اس لیے ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہتے اور احادیث سنتے تھے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک طالب علم کو تعلیم کی تمام رکاوٹوں کو پس پشت ڈالتا چاہیے، اور ہمیشہ استاذ کے ساتھ چمٹے رہنا چاہیے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسکینی علم کے سامنے رکاوٹ نہیں ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مال کو سنبھال کر اس کو اللہ کے سپرد کرنا چاہیے، اور اس کی نگرانی بھی کرنی چاہیے، اور یہ بھی ثابت ہوا کہ خرید و فروخت (تجارت) سنت ہے۔
اور یہ بھی ثابت ہوا کہ کاروبار کے ساتھ انسان علم حاصل کر سکتا ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک استاذ کو شاگرد کے لیے کھلا وقت نکالنا چاہیے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ استاذ کو ہر وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے طلباء کو سمجھ آ جائے، اور ہمیشہ طلباء کے لیے دعا کرتے رہنا چاہیے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قسم صرف اللہ کی کھانی چاہیے، اگر رسول کی قسم کھانی جائز ہوتی تو سیدنا ابوہر رضی اللہ عنہ ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھاتے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1174]
Musnad al-Humaydi Hadith 1176 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي