🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 251
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 251
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائذَنُوا لَهُ فَبِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ، أَوْ قَالَ: أَخُو الْعَشِيرَةِ"، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ أَلانَ لَهُ الْقَوْلَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْتُ لَهُ الَّذِي قُلْتَ , ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ، فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ، أَوْ قَالَ: وَدَعَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ" . قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ: رَأَيْتُكَ أَنْتَ أَبَدًا تَشُكُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک صاحب نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اندر آنے کی اجازت دے دو! یہ اپنے خاندان کا انتہائی برا شخص ہے۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) جب وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی سے بات کی جب وہ شخص چلا گیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے اس کے بارے میں پہلے ایک بات کہی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ نرمی سے گفتگو کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! قیامت کے دن مرتبے اور مقام کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ برا وہ شخص ہوگا، جس کی بدزبانی سے بچنے کے لیے لوگ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے محمد بن منتظر سے کہا: میں نے آپ کا جائزہ لیا ہے، آپ ہمیشہ اس روایت میں شک کا اظہار کرتے ہیں (یعنی آپ کو اس کے الفاظ میں شک محسوس ہوتا ہے۔) [مسند الحميدي/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه،وأخرجه البخاري 6031 وأخرجه مسلم 2591 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4538»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
6046
لم يكن رسول الله فاحشا ولا لعانا ولا سبابا كان يقول عند المعتبة ما له ترب جبينه
صحيح البخاري
6031
لم يكن النبي سبابا ولا فحاشا ولا لعانا كان يقول لأحدنا عند المعتبة ما له ترب جبينه
مسندالحميدي
251
ايذنوا له فبئس ابن العشيرة
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 251 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:251
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ فن جرح و تعدیل بالکل ٹھیک ہے، اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کسی شخص میں کوئی کمی و کوتاہی ہے، اور وہ آپ سے بات کرنا چاہتا ہے، تو اس سے نرم بات کی جائے۔ بدکردار آدمی کو چھوڑ نا درست ہے، اور غلط کردار والا انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت ہی برا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ فرمائے، آمین۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 251]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6031
6031. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالی گلوچ کرنے والے اور بے ہودہ کام کرنے والے نہیں تھے۔ اور نہ لعنت ملامت ہی کرنا آپ کی عادت تھی۔ اگر آپ ہم میں کسی پر ناراض ہوتے تو اتنا فرماتے: اسے کیا ہوگیا ہے؟ اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6031]
حدیث حاشیہ:
قال الخطابي ھذا الدعاء یحتمل وجھین أن یجر بوجھه فیصیب التراب جبینه والذکر أن یکون له دعاء بالطاعة فیصلي فیترب جبینه وقال الداودي ھذہ کلمة جرت علی لسان العرب ولایراد حقیقتھا (عینی)
یعنی یہ دعا احتمال بھی رکھتی ہے کہ وہ شخص چہرے کے بل کھینچا جائے اور اس کی پیشانی کو مٹی لگے یا اس کے حق میں نیک دعا بھی ہو سکتی ہے کہ وہ نماز پڑھے اور نماز میں بحالت سجدہ اس کی پیشانی کو مٹی لگے۔
داؤدی نے کہا کہ یہ ایسا کلمہ ہے جو اہل عرب کی زبان پرعموماً جاری رہتا ہے اور اس کی حقیقت مراد نہیں لی جایا کرتی۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6031]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 6046
6046. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ لعنت والے ہی تھے نیز گالی گلوچ بھی نہیں کرتے تھے بلکہ کسی کو عتاب و زجر کرتے وقت فرماتے: اسے کیا ہو گیا ہے؟ اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6046]
حدیث حاشیہ:
آپ کا یہ فرمانا بھی بطریق بد دعا کے اثر نہ کرتا کیونکہ آپ نے اللہ پاک سے یہ عرض کر لیا تھا۔
یا رب! اگر میں کسی کو برا کہہ دوں تو اس کے لئے اس میں بہتری ہی کیجیو۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6046]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6031
6031. حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گالی گلوچ کرنے والے اور بے ہودہ کام کرنے والے نہیں تھے۔ اور نہ لعنت ملامت ہی کرنا آپ کی عادت تھی۔ اگر آپ ہم میں کسی پر ناراض ہوتے تو اتنا فرماتے: اسے کیا ہوگیا ہے؟ اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6031]
حدیث حاشیہ:
(1)
سباب، فحاش اور لعان تینوں مبالغے کے صیغے ہیں، یعنی بہت گالی گلوچ کرنے والا، بہت بے ہودہ بکنے والا اور بہت لعن طعن کرنے والا۔
مبالغے کی نفی سے اصل فعل کی نفی نہیں ہوتی لیکن اس حدیث میں اصل فعل کی نفی مقصود ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قطعی طور پر گالی گلوچ کرنے والے، بیہودہ باتیں کرنے والے اور لعنت کرنے والے نہ تھے۔
(2)
ان تینوں میں فرق یہ ہے کہ لعنت کے معنی ہیں:
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونا۔
سب کا تعلق نسب سے جبکہ فحش کا تعلق حسب سے ہے۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔
اس کے بھی دومعنی ہیں:
٭وہ اپنے چہرے کے بل گرے اور اس کی پیشانی خاک آلود ہو جائے۔
٭وہ نماز پڑھے تو اس کی پیشانی مٹی سے مل جائے، اس صورت میں یہ نیک دعا ہے، لیکن یہ معنی مقصود نہیں کیونکہ عربوں کے ہاں حکم نماز سے پہلے ہی یہ ضرب المثل رائج اور مشہور تھی۔
بہرحال اس کلمے سے حقیقی معنی مراد نہیں کیونکہ عربوں کی زبان پر یہ کلمہ بے ساختہ جاری ہو جاتا تھا۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6031]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6046
6046. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ لعنت والے ہی تھے نیز گالی گلوچ بھی نہیں کرتے تھے بلکہ کسی کو عتاب و زجر کرتے وقت فرماتے: اسے کیا ہو گیا ہے؟ اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6046]
حدیث حاشیہ:
(1)
کسی کو لعنت کرنا اور گالی گلوچ دینا بہت بڑا جرم ہے،ایسا کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت سے اعزازات سے محروم ہو جاتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
جو بہت زیادہ لعنت کرنے والے ہوں گے وہ قیامت کے دن کسی کے سفارشی یا گواہ نہیں بن سکیں گے۔
(سنن أبي داود، الأدب، حدیث: 4907) (2)
یہ کس قدر محرومی ہے کہ انسان کسی پر لعن وطعن کرنے سے اس فضیلت سے محروم کر دیا جائے جو قیامت کے دن اس کی عزت افزائی کا باعث ہو، حالانکہ اہل ایمان قیامت کے دن اپنے رشتے داروں اور دوسرے لوگوں کی سفارش بھی کریں گے اور ان کے حق میں گواہی بھی دیں گے۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6046]