مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 495
حدیث نمبر: 495
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْر، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، أَلا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا، لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنا کر کھڑے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو اسے دکھائے جاتے ہیں۔ خبردار! مجھے اس بات سے منع کر دیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے کے دوران قرأت کروں۔ جہاں تک رکوع کا تعلق ہے، تو اس میں تم اپنے پروردگار کی عظمت کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے، تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو وہ اس لائق ہو گی کہ اسے قبول کر لیا جائے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 495]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 479 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 548، 599، 602، 680، 674، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1896، 1900، 6045، 6046، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1044، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 637، 711، 7576، وأبو داود فى «سننه» برقم: 876، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1364، 1365، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3899، وأبو يعلى في «مسنده» برقم: 417، 2387»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1046
| لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له نهيت أن أقرأ راكعا أو ساجدا أما الركوع فعظموا فيه الرب أما السجود فاجتهدوا في الدعاء قمن أن يستجاب لكم |
سنن النسائى الصغرى |
1121
| لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة يراها العبد أو ترى له نهيت عن القراءة في الركوع والسجود فإذا ركعتم فعظموا ربكم وإذا سجدتم فاجتهدوا في الدعاء قمن أن يستجاب لكم |
صحيح مسلم |
1074
| لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا أما الركوع فعظموا فيه الرب أما السجود فاجتهدوا في الدعاء قمن أن يستجاب لكم |
سنن أبي داود |
876
| لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له نهيت أن أقرأ راكعا أو ساجدا أما الركوع فعظموا الرب فيه أما السجود فاجتهدوا في الدعاء قمن أن يستجاب لكم |
سنن ابن ماجه |
3899
| لم يبق من مبشرات النبوة إلا الرؤيا الصالحة يراها المسلم أو ترى له |
بلوغ المرام |
230
| الا وإني نهيت ان اقرا القرآن راكعا او ساجدا، فاما الركوع فعظموا فيه الرب، واما السجود فاجتهدوا في الدعاء، فقمن ان يستجاب لكم |
مسندالحميدي |
495
|
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 495 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:495
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اچھا خواب نبوت کا ایک حصہ ہے، اور مؤمن کی علامت ہے، رکوع و سجود میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا منع ہے، ان میں صرف اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرنی چاہیے، اور سجدے میں مسنون دعا کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سجدے میں کی گئی دعا کو بہت زیادہ قبول فرماتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اچھا خواب نبوت کا ایک حصہ ہے، اور مؤمن کی علامت ہے، رکوع و سجود میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا منع ہے، ان میں صرف اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کرنی چاہیے، اور سجدے میں مسنون دعا کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ سجدے میں کی گئی دعا کو بہت زیادہ قبول فرماتے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 495]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 230
نماز کی صفت کا بیان
«. . . وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ألا وإني نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا، فأما الركوع فعظموا فيه الرب، وأما السجود فاجتهدوا في الدعاء، فقمن أن يستجاب لكم» . رواه مسلم. . . .»
”. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لوگو سن لو کہ مجھے رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ لہذا رکوع میں اپنے مالک و پروردگار کی عظمت بیان کرو اور سجدہ میں دعا مانگنے کی کوشش کرو۔ یہ اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کر لی جائے۔“ (مسلم) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 230]
«. . . وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ألا وإني نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا، فأما الركوع فعظموا فيه الرب، وأما السجود فاجتهدوا في الدعاء، فقمن أن يستجاب لكم» . رواه مسلم. . . .»
”. . . سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لوگو سن لو کہ مجھے رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔ لہذا رکوع میں اپنے مالک و پروردگار کی عظمت بیان کرو اور سجدہ میں دعا مانگنے کی کوشش کرو۔ یہ اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کر لی جائے۔“ (مسلم) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 230]
لغوی تشریح: «فَقَمِنٌ» اس میں «فا» جزائیہ ہے، «قَمِنٌ» میں قاف پر فتحہ اور میم کے نیچے کسرہ ہے، یعنی اس بات کا مستحق ہے، اس لائق ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ نماز کے مختلف ارکان ہیں، ان میں سے ہر ایک کی ہیئت الگ الگ ہے۔ ہر ایک کے حسب حال اذکار مقرر ہیں اور سنت سے ثابت ہیں۔
➋ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع وسجود میں تلاوت قرآن ممنوع قرار دی ہے۔ اس کی جگہ آپ نے رکوع میں عظمت رب، یعنی «سُبْحان ربِّي الْعَظيم» اور سجدے میں دعا کرنے کی تلقین فرمائی۔
➌ بعض محدثین اور امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک رکوع میں تعظیم رب اور سجدے میں دعا کرنا واجب ہے، البتہ جمہور علماء نے مستحب قرار دیا ہے۔
➍ سجدہ قبولیت دعا کا ایک اہم ترین مقام ہے، اسی لیے آپ نے اس میں دعا کی ترغیب دی ہے۔ خود بھی سجدے میں مختلف دعائیں کرتے تھے۔ ان میں سے ایک دعا آئندہ حدیث میں آ رہی ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ نماز کے مختلف ارکان ہیں، ان میں سے ہر ایک کی ہیئت الگ الگ ہے۔ ہر ایک کے حسب حال اذکار مقرر ہیں اور سنت سے ثابت ہیں۔
➋ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع وسجود میں تلاوت قرآن ممنوع قرار دی ہے۔ اس کی جگہ آپ نے رکوع میں عظمت رب، یعنی «سُبْحان ربِّي الْعَظيم» اور سجدے میں دعا کرنے کی تلقین فرمائی۔
➌ بعض محدثین اور امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک رکوع میں تعظیم رب اور سجدے میں دعا کرنا واجب ہے، البتہ جمہور علماء نے مستحب قرار دیا ہے۔
➍ سجدہ قبولیت دعا کا ایک اہم ترین مقام ہے، اسی لیے آپ نے اس میں دعا کی ترغیب دی ہے۔ خود بھی سجدے میں مختلف دعائیں کرتے تھے۔ ان میں سے ایک دعا آئندہ حدیث میں آ رہی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 230]
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 876
رکوع اور سجدے میں دعا کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں اپنے کمرہ کا) پردہ اٹھایا، (دیکھا کہ) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی بشارتوں (خوشخبری دینے والی چیزوں) میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے سلسلہ میں کوئی دوسرا دیکھتا ہے، مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں تم اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعا میں کوشاں رہو کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 876]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں اپنے کمرہ کا) پردہ اٹھایا، (دیکھا کہ) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی بشارتوں (خوشخبری دینے والی چیزوں) میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے سلسلہ میں کوئی دوسرا دیکھتا ہے، مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں تم اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعا میں کوشاں رہو کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 876]
876۔ اردو حاشیہ:
➊ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مصلائے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر کھڑے ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باعث اطمینان و تسکین ثابت ہوا تھا۔ اور اسی کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی احقیت (سب سے زیادہ حق دار ہونے) کا قرینہ سمجھا گیا۔
➋ اچھا خواب مسلمان کے لئے خوشخبری کا باعث ہوتا ہے۔ جو بعض اوقات انسان خود دیکھتا ہے یا کسی دوسرے مسلمان کو دکھا دیا جاتا ہے۔
➌ اسی سے بعض علماء نے یہ دقیق سا استنباط کیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے استخارہ کر سکتا ہے۔ (نیز اگلی حدیث کے فوائد ملاحظہ فرمایئے۔)
➍ رکوع اور سجدے میں قرآن کی تلاوت جائز نہیں۔
➎ سجدے میں دعا بہت زیادہ ہونی چاہیے، اس کی قبولیت کی بہت امید ہوتی ہے۔
➊ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مصلائے نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر کھڑے ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے باعث اطمینان و تسکین ثابت ہوا تھا۔ اور اسی کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی احقیت (سب سے زیادہ حق دار ہونے) کا قرینہ سمجھا گیا۔
➋ اچھا خواب مسلمان کے لئے خوشخبری کا باعث ہوتا ہے۔ جو بعض اوقات انسان خود دیکھتا ہے یا کسی دوسرے مسلمان کو دکھا دیا جاتا ہے۔
➌ اسی سے بعض علماء نے یہ دقیق سا استنباط کیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لئے استخارہ کر سکتا ہے۔ (نیز اگلی حدیث کے فوائد ملاحظہ فرمایئے۔)
➍ رکوع اور سجدے میں قرآن کی تلاوت جائز نہیں۔
➎ سجدے میں دعا بہت زیادہ ہونی چاہیے، اس کی قبولیت کی بہت امید ہوتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 876]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1046
رکوع میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے“، پھر فرمایا: ”سنو! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1046]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کا پردہ اٹھایا، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے کھڑے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی خوشخبری سنانے والی چیزوں میں سے کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان دیکھے یا اس کے لیے کسی اور کو دکھایا جائے“، پھر فرمایا: ”سنو! مجھے رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے روکا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں دعا کی کوشش کرو کیونکہ اس میں تمہاری دعا قبول کئے جانے کے لائق ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1046]
1046۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری دن کے ہیں۔
➋ نبی کو تو خوش خبری وحی کے ذریعے سے بھی دی جا سکتی ہے مگر امتیوں کو صرف خواب یا کبھی کبھار الہام کے ذریعے سے ہی خوش خبری دی جا سکتی ہے۔ چونکہ آپ کی وفات قریب تھی، وحی کا انقطاع ہونے ہی والا تھا، اس لیے یوں ارشاد فرمایا۔
➌ رکوع میں عظمت کا بیان اور تسبیح زیادہ مناسب ہیں، لہٰذا ان کی طرف زیادہ توجہ دی جائے۔ سجدے میں دعا کا موقع ہے کیونکہ یہ انسان کے تذلل و خشوع اور عاجزی کی انتہائی صورت ہے۔ نماز کے ارکان میں سے مقصود اعظم ہے، لہٰذا سجدے میں پوری کوشش اور تندہی سے خوب دعا کی جائے۔ ہر مقالے را مقام دیگر است۔ اگرچہ سجدہ تسبیح کا بھی محل ہے۔
➊ یہ ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری دن کے ہیں۔
➋ نبی کو تو خوش خبری وحی کے ذریعے سے بھی دی جا سکتی ہے مگر امتیوں کو صرف خواب یا کبھی کبھار الہام کے ذریعے سے ہی خوش خبری دی جا سکتی ہے۔ چونکہ آپ کی وفات قریب تھی، وحی کا انقطاع ہونے ہی والا تھا، اس لیے یوں ارشاد فرمایا۔
➌ رکوع میں عظمت کا بیان اور تسبیح زیادہ مناسب ہیں، لہٰذا ان کی طرف زیادہ توجہ دی جائے۔ سجدے میں دعا کا موقع ہے کیونکہ یہ انسان کے تذلل و خشوع اور عاجزی کی انتہائی صورت ہے۔ نماز کے ارکان میں سے مقصود اعظم ہے، لہٰذا سجدے میں پوری کوشش اور تندہی سے خوب دعا کی جائے۔ ہر مقالے را مقام دیگر است۔ اگرچہ سجدہ تسبیح کا بھی محل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1046]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1121
سجدہ میں دعا میں کوشش کرنے کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی پردہ ہٹایا، آپ کا سر مبارک کپڑے سے بندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ! میں نے پہنچا دیا (پھر فرمایا:) نبوت کی خوش خبریوں میں سے سوائے سچے خواب کے جسے بندہ خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ گئی ہے، سنو! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور جب سجدہ کرو تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ یہ حالت اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1121]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ کی وفات ہوئی پردہ ہٹایا، آپ کا سر مبارک کپڑے سے بندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اے اللہ! میں نے پہنچا دیا (پھر فرمایا:) نبوت کی خوش خبریوں میں سے سوائے سچے خواب کے جسے بندہ خود دیکھتا ہے یا اس کے لیے کوئی اور دیکھتا ہے کوئی اور چیز باقی نہیں رہ گئی ہے، سنو! مجھے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، تو جب تم رکوع کرو تو اپنے رب کی عظمت بیان کرو، اور جب سجدہ کرو تو دعا میں کوشش کرو کیونکہ یہ حالت اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کی جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1121]
1121۔ اردو حاشیہ: فوائد کے لیے دیکھیے، حدیث نمبر: 1046۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1121]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1074
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے کا پردہ اٹھایا اور لوگ ابو بکر کے پیچھے صفوں میں کھڑے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! نبوت کی بشارتوں سے اب صرف اچھے خواب باقی رہ گئے ہیں، جو خود مسلمان دیکھے گا، یا اس کے بارے میں دوسرے کو دکھایا جائے گا، خبردار مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے روک دیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں اپنے رب کی عظمت و کبریائی بیان کرو اور رہا سجدہ تو اس میں خوب دعا کرو، وہ اس... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1074]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چونکہ کوئی اور نبی نہیں آنا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ورسالت ختم ہو چکی ہے اس لیے وحی کی آمد کا سلسلہ ہوجائے گا،
صرف اچھے خواب رہ جائیں گے جو کسی کو اپنے دوسرے کے حق میں نظر آ سکیں گے۔
2۔
قراءت کا موقع اور محل قیام ہے،
اور رکوع وسجود جو عاجزی اور فروتنی پر دلالت کرتے ہیں،
ان میں اللہ کے حضور اپنے عجز ونیاز کا اظہار کیا جائے گا۔
(ان کے اورادا وظائف اگلے باب میں آ رہے ہیں)
اس لیے ان میں قرآن نہیں پڑھا جائے گا۔
فوائد ومسائل:
1۔
اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چونکہ کوئی اور نبی نہیں آنا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ورسالت ختم ہو چکی ہے اس لیے وحی کی آمد کا سلسلہ ہوجائے گا،
صرف اچھے خواب رہ جائیں گے جو کسی کو اپنے دوسرے کے حق میں نظر آ سکیں گے۔
2۔
قراءت کا موقع اور محل قیام ہے،
اور رکوع وسجود جو عاجزی اور فروتنی پر دلالت کرتے ہیں،
ان میں اللہ کے حضور اپنے عجز ونیاز کا اظہار کیا جائے گا۔
(ان کے اورادا وظائف اگلے باب میں آ رہے ہیں)
اس لیے ان میں قرآن نہیں پڑھا جائے گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1074]
عبد الله بن معبد الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي