🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 522
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ:" أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ بِعَرَفَةَ، فَوَجَدْتُهُ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ لَعَلَّكَ صَائِمٌ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَصُمْ هَذَا الْيَوْمَ" .
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے انہیں انار کھاتے ہوئے دیکھا، وہ بولے: آگے آؤ اور تم بھی کھاؤ! شاید تم نے روزہ رکھا ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3605، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2827، والترمذي فى «جامعه» برقم: 750، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 1895، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2744»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد اللهثقة ثبت
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← أيوب السختياني
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
750
أفطر بعرفة وأرسلت إليه أم الفضل بلبن فشرب
مسندالحميدي
522
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يصم هذا اليوم
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 522 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:522
فائدہ:
اس حدیث میں ہے کہ عرفات کے دن کا روزہ حاجی حضرات، جو میدان عرفات میں ہوں نہیں رکھیں گے، ان کے علاوہ دیگر امت مسلمہ یوم عرفہ نو ذوالحجہ کا روزہ رکھے گی، اس روزے کی بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے، سیدنا ابوقتادہ انصاری رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ [صحيح مسلم: 1162]
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 522]