🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 531
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 531
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَوْ غَضَّ النَّاسُ فِي الْوَصِيَّةِ إِلَى الرُّبْعِ لَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الثُّلُثُ , وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر لوگ وصیت کے بارے میں ایک چوتھائی حصے پر اکتفاء کریں، تو یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو گا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ایک تہائی (کے بارے میں وصیت کرنے کی اجازت ہے) ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 531]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2743، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1629، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3636، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6428، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2711، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12697، وأحمد فى «مسنده» برقم: 2062، 2106، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31559، والطبراني فى "الكبير" برقم: 10719»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة إمام في الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2743
الثلث والثلث كثير
صحيح مسلم
4218
الثلث والثلث كثير
سنن ابن ماجه
2711
الثلث كبير أو كثير
سنن النسائى الصغرى
3664
الثلث والثلث كثير
مسندالحميدي
531
الثلث والثلث كثير
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 531 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:531
فائدہ:
اس حدیث میں وصیت کی حد متعین کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تیسرے حصے کی وصیت کرنا درست ہے، اس سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔ افسوس کہ بعض لوگ غصے میں آ کر یا کسی سے زیادہ محبت کی غرض سے سارے مال ہی کی وصیت کر جاتے ہیں، یہ گناہ ہے، اور مؤثر بھی نہیں ہے، جو شخص ایسی وصیت کر دے تو اس کی وصیت پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 531]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4218
امام اپنے تین اساتذہ کی تین سندوں سے، ہشام بن عروہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ اگر لوگ تہائی میں کمی کر کے، چوتھائی مال کے بارے میں وصیت کر لیں، (تو بہت ہے) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، تہائی، اور تہائی بہت ہے۔ وکیع کی روایت میں ہے، بڑا ہے یا بہت ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4218]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض صحابہ و تابعین سے چوتھائی سے بھی کم کرنے کے اقوال منقول ہیں،
اصل چیز یہ ہے،
کہ وصیت کرنے والا اپنے ترکہ کی مقدار اور اپنے ورثاء کی تعداد اور ان کی ضروریات کا لحاظ کرتے ہوئے،
تہائی سے کم کرے گا،
لیکن اپنی زندگی میں فی سبیل اللہ یا نیک کاموں میں جس قدر چاہے صرف کر سکتا ہے،
اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4218]