🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 544
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
حَدَّثنا حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيَّ ، يَقُولُ:" سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ، عَنِ الْبَاذِقِ وَأَنَا وَاللَّهِ! أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ، فَقَالَ: سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذِقُ وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ" .
ابو جویریہ جرمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا وہ اس وقت خانہ کعبہ کے ساتھ پشت لگا کر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے باذق (شراب کی مخصوص قسم) کے بارے میں دریافت کیا: اللہ کی قسم میں وہ پہلا شخص تھا، جس نے ان سے یہ سوال کیا تھا، تو وہ بولے: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم باذق کے بارے میں فیصلہ دے چکے ہیں، جو چیز نشہ کرے وہ حرام ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 544]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5598، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5622، 5703، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5096، 5177، 6787، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17472، 17473، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17014، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 24236، 36936، والطبراني فى "الكبير" برقم: 12694»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥حطان بن خفاف الجرمي، أبو الجويرية
Newحطان بن خفاف الجرمي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← حطان بن خفاف الجرمي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5598
ما أسكر فهو حرام الشراب الحلال الطيب قال ليس بعد الحلال الطيب إلا الحرام الخبيث
سنن أبي داود
3680
كل مخمر خمر كل مسكر حرام من شرب مسكرا بخست صلاته أربعين صباحا فإن تاب تاب الله عليه فإن عاد الرابعة كان حقا على الله أن يسقيه من طينة الخبال قيل وما طينة الخبال يا رسول الله قال صديد أهل النار ومن سقاه صغيرا لا يعرف حلاله من حرامه كان حقا على الله أ
سنن النسائى الصغرى
5690
ما أسكر فهو حرام
سنن النسائى الصغرى
5610
ما أسكر فهو حرام
مسندالحميدي
544
سبق محمد الباذق وما أسكر فهو حرام
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 544 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:544
فائدہ:
باذق سے مراد وہ شراب ہے جو انگور نچوڑ کر اس کے شیرے سے بنائی جائے۔ معمولی پکانے سے نشہ آور نہیں بنتی جب اسے اچھی طرح آگ پر پکایا جاتا ہے تب نشہ آور بنتی ہے۔ شراب خواہ کسی بھی چیز سے بنی ہو، حرام ہے، شراب کی علت (نشہ) جس بھی چیز میں ہو وہ شراب ہے اور حرام ہے، یہاں پر ایک تنبیہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دانا عقل مند پیدا کیا ہے، کتنا بدقسمت ہے وہ انسان جو شراب وغیرہ کے ساتھ اپنے آپ کو بے ہوش کر لیتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 544]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5610
جس مشروب کو زیادہ پینے سے نشہ آ جائے اس کی حرمت کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز کے زیادہ پینے سے نشہ آ جائے تو اسے تھوڑا سا پینا بھی حرام ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5610]
اردو حاشہ:
احناف کا خیال ہے کہ خمر تو قلیل بھی حرام ہے اور کثیر بھی، مگر دوسرے نشہ آور مشروب نشے کی حد سے کم کم پیے جا سکتے ہیں۔ یہ حدیث ان کی تردید کرتی ہے۔ احناف کے نزدیک خمر کسے کہتے ہیں؟ یہ بحث پیچھے گزر چکی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5610]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث5690
نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
ابوالجویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» (بادہ) کے بارے میں پوچھا، وہ کعبے سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے، چنانچہ وہ بولے: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) «باذق» کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے (یا پہلے ہی اس کا حکم فرما گئے کہ) جو مشروب نشہ لائے، وہ حرام ہے۔ وہ (جرمی) کہتے ہیں: میں عرب کا سب سے پہلا شخص تھا جس نے باذق کے بارے میں پوچھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5690]
اردو حاشہ:
یہ اور آئندہ روایات یہ بتانے کے لیے لائی گئی ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ہر نشہ آور مشروب کو حرام سمجھتے تھے خواہ وہ خمر ہو یا کچھ اور۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5690]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3680
نشہ لانے والی چیزوں سے ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، اور جس نے کوئی نشہ آور چیز استعمال کی تو اس کی چالیس روز کی نماز کم کر دی جائے گی، اگر اس نے اللہ سے توبہ کر لی تو اللہ اسے معاف کر دے گا اور اگر چوتھی بار پھر اس نے پی تو اللہ کے لیے یہ روا ہو جاتا ہے کہ اسے «طینہ الخبال» پلائے عرض کیا گیا: «طینہ الخبال» کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: جہنمیوں کی پیپ ہے، اور جس شخص نے کسی کمسن لڑکے کو جسے حلال و حرام کی تمیز نہ ہو شراب پلائی تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3680]
فوائد ومسائل:

کہتے ہیں کہ نشہ آور چیز کا اثر جسم میں چالیس دنوں تک رہتا ہے۔


نادان بچوں کو یا جنھیں پتہ نہ ہو اسے کوئی نشہ آور چیز پلانا شدید معاشرتی اور اخلاقی جرم ہے۔
جس سے پلانے والے کی عاقبت خراب ہوجاتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3680]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5598
5598. سیدنا ابو جویریہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس ؓ سے باذق کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم باذق کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بہرحال جو بھی چیز نشہ لائے وہ حرام ہے۔ ابو جویریہ نے کہا: باذق تو حلال و طیب ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا: انگور حلال و طیب تھا جب اس کی شراب بن گئی تو وہ حرام و خبیث ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5598]
حدیث حاشیہ:
بعض قدماء شاعر نے سچ کہا ہے و أشربھا و أزعمھا حراما و أرجو عفو ربي ذي امتنان یعنی میں شراب پیتا ہوں اور اسے حرام بھی جانتا ہوں مگر مجھے اپنے کی طرف سے معافی کی امید ہے کہ وہ بہت ہی احسان کرنے والا ہے۔
و یشربھا و یزعمھا حلالا و تلك علی المسمیٰ خطیئتان اور شرابی جو اسے پیئے اور حلال جانے یہ ایسے گنہگار کے حق میں دو گنا گناہ ہے۔
بہر حال حرام ہے اسے حلال جاننا کفر ہے۔
باذق بادہ کا معرب ہے وہ شراب جو انگور کا شیرہ نکال کر پکا لی جائے یعنی تھوڑا سا پکائیں کہ وہ رقیق اور صاف رہے۔
اگر اسے اتنا پکائیں کہ آدھا جل جائے تو اسے منصف کہیں گے اور اگر دو تہائی جل جائے تو اسے مثلث کہیں گے۔
اسے طلاء بھی کہتے ہیں کہ وہ گاڑھا ہو کر اس لیپ کی طرح ہو جاتا ہے جو خارش والے اونٹوں پر لگاتے ہیں۔
منصف کا پینا درست ہے اگر اس میں نشہ ہو جائے تو وہ بالاتفاق حرام ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5598]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5598
5598. سیدنا ابو جویریہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس ؓ سے باذق کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم باذق کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بہرحال جو بھی چیز نشہ لائے وہ حرام ہے۔ ابو جویریہ نے کہا: باذق تو حلال و طیب ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓ نے فرمایا: انگور حلال و طیب تھا جب اس کی شراب بن گئی تو وہ حرام و خبیث ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5598]
حدیث حاشیہ:
جب کسی چیز میں نشہ پیدا ہو جائے تو اس کا نام بدل دینے سے وہ حرام، حلال نہیں بن جائے گا، ہاں اگر کوئی چیز حلال و طیب ہے تو وہ آگ پر جوش دینے سے حرام نہیں ہو گی جب تک کہ اس میں نشہ پیدا نہیں ہوتا۔
ایک روایت میں ہے کہ ابو جویریہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا:
ہم انگوروں کو نچوڑ کر اس کا شیرہ، جو میٹھا ہوتا ہے، نوش کرتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا:
جب اس میں مٹھاس باقی رہے، یعنی ترش نہ ہو تو اسے پیا جا سکتا ہے۔
ایک موقوف روایت میں ہے:
آگ کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتی۔
(سنن النسائي، الأشربة، حدیث: 5732)
اصل دار و مدار اس کے نشہ آور ہونے پر ہے۔
(فتح الباري: 84/10)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5598]