مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 600
حدیث نمبر: 600
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا، وَأَحَبُّ الصَّلاةِ إِلَى اللَّهِ صَلاةُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَيْقُومُ ثُلُثَهُ، وَيْنَامُ سُدُسَهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز حضرت داؤد علیہ السلام کی نماز ہے وہ نصف رات سوئے رہتے تھے۔ پھر ایک تہائی رات نوافل ادا کرتے رہتے تھے۔ پھر رات کا چھٹا حصہ سوئے رہتے تھے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1131، 1153، 1974، 1975، 1976، 1977، 1978، 1979، 1980، 3418، 3419، 3420، 5052، 5053، 5054، 5199، 6134، 6277، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1159، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 11، 352، 756، 757، 758، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4127، 4128، 4730،4808، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 6588»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1131
| أحب الصلاة إلى الله صلاة داود أحب الصيام إلى الله صيام داود كان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه ويصوم يوما ويفطر يوما |
مسندالحميدي |
600
| أحب الصيام إلى الله صيام داود، وكان يصوم يوما ويفطر يوما، وأحب الصلاة إلى الله صلاة داود، كان ينام نصف الليل، ويقوم ثلثه، وينام سدسه |
مسندالحميدي |
601
| ألم أخبر أنك تقوم الليل وتصوم النهار |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 600 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:600
فائدہ:
اس حدیث میں نفلی روزوں میں سے افضل ترین روزے صوم داؤد علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے، کہ ایک دن روزہ رکھ لیا جائے اور ایک دن چھوڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کو اتنی طاقت دے وہ اس پرعمل کر سکتا ہے، ورنہ نفلی امور میں شریعت کسی پر سختی نہیں کرتی، بلکہ صرف ترغیب دلاتی ہے۔
نیز اس حدیث میں نفلی نمازوں میں سے افضل نماز صلاۃ داؤد علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے کہ وہ آدھی رات سوجاتے، پھر تیسرے حصے میں قیام کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے، سبحان اللہ۔
اس انداز میں نیند بھی پوری رہتی ہے اور نفلی عبادت بھی کھل کر ہوجاتی ہے۔ بعض گمراہ لوگوں کی عبادت سنت کے مخالف ہوتی ہے، عبادت خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، بس یہ خیال رکھا جائے کہ وہ قرآن و حدیث کے مطابق ہونی چاہئے۔
اس حدیث میں نفلی روزوں میں سے افضل ترین روزے صوم داؤد علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے، کہ ایک دن روزہ رکھ لیا جائے اور ایک دن چھوڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ جس کو اتنی طاقت دے وہ اس پرعمل کر سکتا ہے، ورنہ نفلی امور میں شریعت کسی پر سختی نہیں کرتی، بلکہ صرف ترغیب دلاتی ہے۔
نیز اس حدیث میں نفلی نمازوں میں سے افضل نماز صلاۃ داؤد علیہ السلام کو قرار دیا گیا ہے کہ وہ آدھی رات سوجاتے، پھر تیسرے حصے میں قیام کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے، سبحان اللہ۔
اس انداز میں نیند بھی پوری رہتی ہے اور نفلی عبادت بھی کھل کر ہوجاتی ہے۔ بعض گمراہ لوگوں کی عبادت سنت کے مخالف ہوتی ہے، عبادت خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ، بس یہ خیال رکھا جائے کہ وہ قرآن و حدیث کے مطابق ہونی چاہئے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 600]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:601
601- سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ پتہ چلاہے، تم رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو روزانہ دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہو؟“ انہوں نے عرض کی: میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، تمھاری دونوں آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اگر تم ایسا کروگے، تو تمہاری نظر کمزور ہوجاۓ گی، تم خود کمزور ہوجاؤ گے۔ تم نوافل بھی پڑھا کرو۔ اور سوبھی جایا کرو۔ نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو۔ اور چھوڑ بھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:601]
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص ساری رات قیام کرے اور روزانہ روزہ رکھے، اس کو ڈانٹا جائے، اس کی تعریف کی بجائے مذمت کی جائے، کیونکہ مؤمن حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں بھی کمی نہیں کرتا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص ساری رات قیام کرے اور روزانہ روزہ رکھے، اس کو ڈانٹا جائے، اس کی تعریف کی بجائے مذمت کی جائے، کیونکہ مؤمن حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں بھی کمی نہیں کرتا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 601]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1131
1131. حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب نمازوں سے حضرت داود ؑ کی نماز زیادہ پسند ہے اور تمام روزوں میں زیادہ پسندیدہ روزہ بھی حضرت داود ؑ کا ہے۔ وہ نصف رات تک سوئے رہتے، پھر تہائی شب عبادت کرتے، اس کے بعد رات کے چھٹے حصے میں سو جاتے، نیز وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ نہ رکھتے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1131]
حدیث حاشیہ:
رات کے بارہ گھنٹے ہوتے ہیں تو پہلے چھ گھنٹے میں سو جاتے، پھر چا ر گھنٹے عبادت کرتے، پھر دو گھنٹے سورہتے۔
گویا سحر کے وقت سوتے ہوتے یہی ترجمہ باب ہے۔
رات کے بارہ گھنٹے ہوتے ہیں تو پہلے چھ گھنٹے میں سو جاتے، پھر چا ر گھنٹے عبادت کرتے، پھر دو گھنٹے سورہتے۔
گویا سحر کے وقت سوتے ہوتے یہی ترجمہ باب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1131]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1131
1131. حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب نمازوں سے حضرت داود ؑ کی نماز زیادہ پسند ہے اور تمام روزوں میں زیادہ پسندیدہ روزہ بھی حضرت داود ؑ کا ہے۔ وہ نصف رات تک سوئے رہتے، پھر تہائی شب عبادت کرتے، اس کے بعد رات کے چھٹے حصے میں سو جاتے، نیز وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ نہ رکھتے۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1131]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر رات کے بارہ گھنٹے ہوں تو داود ؑ پہلے چھ گھنٹے سوئے رہتے، پھر تہائی شب، یعنی چار گھنٹے عبادت کرتے، اس کے بعد چھٹا حصہ، یعنی دو گھنٹے محو استراحت رہتے، گویا سحری کا وقت سو کر گزار دیتے۔
(2)
عنوان بالا کا مقصد ہے کہ جو شخص سحری کے وقت سویا رہا وہ قابل ملامت نہیں بشرطیکہ رات کی حق ادائیگی پہلے کر چکا ہو۔
اس وقت سونے میں حکمت یہ ہے کہ صبح کی نماز کے لیے نشاط حاصل ہو اور تھکاوٹ وغیرہ دور ہو جائے۔
ایسا کرنا ریا کاری سے بھی بچاؤ کا ذریعہ ہے کیونکہ جو شخص رات کے وقت عبادت کر کے سو جائے تو بیداری کے وقت اس کے چہرے سے عبادت کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔
(فتح الباري: 23/3)
(1)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر رات کے بارہ گھنٹے ہوں تو داود ؑ پہلے چھ گھنٹے سوئے رہتے، پھر تہائی شب، یعنی چار گھنٹے عبادت کرتے، اس کے بعد چھٹا حصہ، یعنی دو گھنٹے محو استراحت رہتے، گویا سحری کا وقت سو کر گزار دیتے۔
(2)
عنوان بالا کا مقصد ہے کہ جو شخص سحری کے وقت سویا رہا وہ قابل ملامت نہیں بشرطیکہ رات کی حق ادائیگی پہلے کر چکا ہو۔
اس وقت سونے میں حکمت یہ ہے کہ صبح کی نماز کے لیے نشاط حاصل ہو اور تھکاوٹ وغیرہ دور ہو جائے۔
ایسا کرنا ریا کاری سے بھی بچاؤ کا ذریعہ ہے کیونکہ جو شخص رات کے وقت عبادت کر کے سو جائے تو بیداری کے وقت اس کے چہرے سے عبادت کے اثرات ختم ہو جائیں گے۔
(فتح الباري: 23/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1131]
Musnad al-Humaydi Hadith 600 in Urdu
عمرو بن أوس الطائي ← عبد الله بن عمرو السهمي