مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 630
حدیث نمبر: 630
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ جلتی ہوئی نہ چھوڑا کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6293، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2015، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7860، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5246، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1813، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3769، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 4603 برقم: 4635 برقم: 5123 برقم: 5496، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5434، 5486، 5531»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6293
| لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون |
صحيح مسلم |
5257
| لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون |
جامع الترمذي |
1813
| لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون |
سنن أبي داود |
5246
| لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون |
سنن ابن ماجه |
3769
| لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون |
مسندالحميدي |
630
| لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 630 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:630
فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر طرح کی آگ بجھا کر سونا چا ہیے خواہ ظاہری خطرہ نہ ہو کیونکہ کسی بھی وقت کوئی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر طرح کی آگ بجھا کر سونا چا ہیے خواہ ظاہری خطرہ نہ ہو کیونکہ کسی بھی وقت کوئی مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 630]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3769
رات کو سوتے وقت آگ بجھا دینے کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں (جلتی ہوئی) آگ مت چھوڑو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3769]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم سونے لگو تو اپنے گھروں میں (جلتی ہوئی) آگ مت چھوڑو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3769]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
موم بتی اورچراغ وغیرہ جلتا ہوا چھوڑ کر سونے سے حادثے کا خطرہ ہوتا ہے۔
گھر میں کسی چیز کو آگ لگ سکتی ہے۔
(2)
سردی کے موسم میں کمرے گرم کرنے کے لیے بعض اوقات کوئلوں کی انگیٹھی استعمال ہوتی ہے۔
بند کمرے میں انگیٹھی جلتی چھوڑ کر سو جانے سے جہاں آگ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے، وہاں زہریلی گیس کا کمرے میں جمع ہو جانا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
گیس کا ہیٹر بھی کھلا چھوڑ کر سونے میں بڑے خطرات ہیں۔
اس کے مفاسد بھی اخبارات میں آتے رہتے ہیں۔
(3)
بجلی کا بلب جلتا رہے تو اس سے یہ خطرہ نہیں، تا ہم تیز روشنی میں پر سکون نیند حاصل نہیں ہوتی۔
اگر ضرورت انتہائی ہلکی روشنی کا بلب جلانا چا ہیے۔
(4)
کسی بھی خطرناک چیز (مثلاًبجلی کے آلات)
استعمال کرتے وقت ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
موم بتی اورچراغ وغیرہ جلتا ہوا چھوڑ کر سونے سے حادثے کا خطرہ ہوتا ہے۔
گھر میں کسی چیز کو آگ لگ سکتی ہے۔
(2)
سردی کے موسم میں کمرے گرم کرنے کے لیے بعض اوقات کوئلوں کی انگیٹھی استعمال ہوتی ہے۔
بند کمرے میں انگیٹھی جلتی چھوڑ کر سو جانے سے جہاں آگ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے، وہاں زہریلی گیس کا کمرے میں جمع ہو جانا بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
گیس کا ہیٹر بھی کھلا چھوڑ کر سونے میں بڑے خطرات ہیں۔
اس کے مفاسد بھی اخبارات میں آتے رہتے ہیں۔
(3)
بجلی کا بلب جلتا رہے تو اس سے یہ خطرہ نہیں، تا ہم تیز روشنی میں پر سکون نیند حاصل نہیں ہوتی۔
اگر ضرورت انتہائی ہلکی روشنی کا بلب جلانا چا ہیے۔
(4)
کسی بھی خطرناک چیز (مثلاًبجلی کے آلات)
استعمال کرتے وقت ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3769]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:6293
6293. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب تم سونے لگو تو گھر میں آگ نہ چھوڑو۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:6293]
حدیث حاشیہ:
(1)
اگر سوتے وقت گھر میں آگ چھوڑ دی جائے اور اسے بجھایا نہ جائے یا اس سے محفوظ رہنے کا کوئی بندوبست نہ کیا جائے تو بعض دفعہ اس کے بھڑک اٹھنے سے بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوجاتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اگر گھر میں کوئی اکیلا آدمی ہے تو اسے چاہیے کہ سوتےوقت آگ بجھا کر سوئے یا اس سے محفوظ رہنے کا معقول بندوبست کرے اور گھر میں کئی آدمی ہیں تو گھر میں جو آخری آدمی بیدار رہنے والا ہو اسے یہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
(فتح الباري: 103/11) (2)
بجلی کا معاملہ بھی یہی ہے، اسے بھی بجھانا کر سونا چاہیے بصورت دیگر بہت بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔
واللہ أعلم
(1)
اگر سوتے وقت گھر میں آگ چھوڑ دی جائے اور اسے بجھایا نہ جائے یا اس سے محفوظ رہنے کا کوئی بندوبست نہ کیا جائے تو بعض دفعہ اس کے بھڑک اٹھنے سے بہت سا جانی اور مالی نقصان ہوجاتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اگر گھر میں کوئی اکیلا آدمی ہے تو اسے چاہیے کہ سوتےوقت آگ بجھا کر سوئے یا اس سے محفوظ رہنے کا معقول بندوبست کرے اور گھر میں کئی آدمی ہیں تو گھر میں جو آخری آدمی بیدار رہنے والا ہو اسے یہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
(فتح الباري: 103/11) (2)
بجلی کا معاملہ بھی یہی ہے، اسے بھی بجھانا کر سونا چاہیے بصورت دیگر بہت بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6293]
Musnad al-Humaydi Hadith 630 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي