علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 760
حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ لَهُمْ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، فَيَغْزُو فِيهِ فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ، فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَحِبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُقَالُ: نَعَمْ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا، جس میں بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لیں گے، تو یہ کہا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسے صاحب موجود ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہوں؟ تو جواب دیا جائے گا۔ جی ہاں، تو ان لوگوں کو فتح نصیب ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا۔ جب بہت سے لوگ جنگ میں حصہ لینے کے لیے جائیں گے، تو ان سے دریافت کیا جائے گا کیا تم میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی خدمت میں رہا ہو، تو انہیں جواب دیا جائے گا۔ جی ہاں، تو انہیں بھی فتح نصیب ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا، جس میں بہت سے لوگ جنگ کرنے کے لیے جائیں گے، تو دریافت کیا جائے گا: کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو پایا ہو؟ تو جواب دیا جائے گا: جی ہاں، تو انہیں بھی فتح نصیب ہو جائے گی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2897، 3594، 3649، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2532، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4768، 6666، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 11198، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 974»
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2897
| يأتي زمان يغزو فئام من الناس فيقال فيكم من صحب النبي فيقال نعم فيفتح عليه ثم يأتي زمان فيقال فيكم من صحب أصحاب النبي فيقال نعم فيفتح ثم يأتي زمان فيقال فيكم من صحب صاحب أصحاب النبي فيقال نعم |
صحيح البخاري |
3594
| يأتي على الناس زمان يغزون فيقال لهم فيكم من صحب الرسول فيقولون نعم فيفتح عليهم ثم يغزون فيقال لهم هل فيكم من صحب من صحب الرسول فيقولون نعم فيفتح لهم |
صحيح البخاري |
3649
| يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس فيقولون فيكم من صاحب رسول الله فيقولون نعم فيفتح لهم ثم يأتي على الناس زمان فيغزو فئام من الناس فيقال هل فيكم من صاحب أصحاب رسول الله فيقولون نعم فيفتح لهم |
صحيح مسلم |
6468
| يأتي على الناس زمان يغزو فئام من الناس فيقال لهم فيكم من رأى رسول الله فيقولون نعم فيفتح لهم ثم يغزو فئام من الناس فيقال لهم فيكم من رأى من صحب رسول الله فيقولون نعم فيفتح لهم ثم يغزو فئام من الناس |
صحيح مسلم |
6468
| يأتي على الناس زمان يبعث منهم البعث فيقولون انظروا هل تجدون فيكم أحدا من أصحاب النبي فيوجد الرجل فيفتح لهم به ثم يبعث البعث الثاني فيقولون هل فيهم من رأى أصحاب النبي فيفتح لهم به ثم يبعث البعث الثالث فيقال انظروا هل ترون فيهم من رأى من رأى أصحاب النبي ثم |
مسندالحميدي |
760
|
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 760 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:760
فائدہ:
اس سے ثابت ہوا کہ خیر و برکت اور دین کے مثالی غلبے کا دور صحابہ کرام ، تابعی اور تبع تابعی کا دور تھا، ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تمام زمانوں سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر صحابہ کرام ()، پھر تابعین عظام (رحمها اللہ) کا“۔ [صحيح البخاري: 2651]
خیر القرون کے لوگوں کا تقویٰ اور تو کل مثالی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی صلاحیتوں اور فتوحات میں برکت فرمائی۔ جو قوم آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دے وہ مغلوب رہتی ہے۔ خیر القرون آخرت کو ترجیح دیتے تھے۔ اس لیے کامیاب تھے۔
اس سے ثابت ہوا کہ خیر و برکت اور دین کے مثالی غلبے کا دور صحابہ کرام ، تابعی اور تبع تابعی کا دور تھا، ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تمام زمانوں سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر صحابہ کرام ()، پھر تابعین عظام (رحمها اللہ) کا“۔ [صحيح البخاري: 2651]
خیر القرون کے لوگوں کا تقویٰ اور تو کل مثالی تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی صلاحیتوں اور فتوحات میں برکت فرمائی۔ جو قوم آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دے وہ مغلوب رہتی ہے۔ خیر القرون آخرت کو ترجیح دیتے تھے۔ اس لیے کامیاب تھے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 760]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6468
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجاجائے گا تو لوگ کہیں گے:دیکھو،کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟تو ایک شخص مل جائے گا،چنانچہ اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی،پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ(آپس میں) کہیں گے:کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟تو انھیں اس(شخص) کی بنا پر فتح حاصل... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6468]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی ایک صحابی کو دیکھنا بھی شرف و سعادت اور برکت کا باعث ہے تو زیادہ صحابہ کرام کو دیکھنا زیادہ خیر و برکت کا باعث ہو گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی ایک صحابی کو دیکھنا بھی شرف و سعادت اور برکت کا باعث ہے تو زیادہ صحابہ کرام کو دیکھنا زیادہ خیر و برکت کا باعث ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6468]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6468
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی لشکر بھیجاجائے گا تو لوگ کہیں گے:دیکھو،کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کوئی فرد ہے؟تو ایک شخص مل جائے گا،چنانچہ اس کی وجہ سے انھیں فتح مل جائے گی،پھر ایک اور لشکر بھیجا جائے گا تو لوگ(آپس میں) کہیں گے:کیا ان میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا ہو؟تو انھیں اس(شخص) کی بنا پر فتح حاصل... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6468]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی ایک صحابی کو دیکھنا بھی شرف و سعادت اور برکت کا باعث ہے تو زیادہ صحابہ کرام کو دیکھنا زیادہ خیر و برکت کا باعث ہو گا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
کسی ایک صحابی کو دیکھنا بھی شرف و سعادت اور برکت کا باعث ہے تو زیادہ صحابہ کرام کو دیکھنا زیادہ خیر و برکت کا باعث ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6468]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2897
2897. حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ جہاد کریں گے تو کہا جائے گا: تم میں کوئی ایساشخص ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحبت یافتہ ہو؟ جواب دیا جائے گا: ہاں، تو اس (کے ہاتھ) پر فتح دی جائے گی۔ پھر ایک زمانہ آئے گا لوگ پوچھیں گے: آیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓ کی ہم نشینی کی ہو؟ جواب دیاجائے گا: ہاں، تو اس کے ذریعے سے (جب دعا مانگی جائے گی تو) فتح دی جائےگی۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی صحبت اٹھانے والوں کو دیکھا ہو؟ جواب دیا جائے گا: ہاں، تو (اس کی دعا کے واسطے سے) فتح دی جائے گی۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2897]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ والے نیک لوگوں کی دعاؤں کا نفع حاصل کرنا جائز ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرا زمانۂ پھر میرے صحابہ کا زمانۂ اور پھر تابعین کا زمانۂ یہ بہترین زمانے ہیں۔
ان خیرو برکت کے زمانوں میں مسلمان صحیح معنوں میں خدا رسیدہ مسلمان تھے‘ ان کی دعاؤں کو قبول عام حاصل تھا۔
بہرحال ہر زمانے میں ایسے خدا رسیدہ لوگوں کا وجود ضروری ہے۔
ان کی صحبت میں رہنا‘ ان سے دعائیں کرانا اور روحانی فیوض حاصل کرنا عین خوشی نصیبی ہے۔
ایسے ہی لوگوں کو قرآن مجید میں اولیاء اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے جن کی شان میں ﴿الذینَ اٰمنُوا وکانُوا یتقُونَ﴾ کہا گیا ہے کہ وہ لوگ اپنے ایمان میں پختہ اور تقویٰ میں کامل ہوتے ہیں۔
جن میں یہ چیزیں نہ پائی جائیں ان کو اولیاء اللہ جاننا انتہائی حماقت ہے۔
مگر افسوس کہ آج کل بیشتر نام نہاد مسلمان اس حماقت میں مبتلا ہیں کہ وہ بہت سے چرسی افیونی حرام خور نکھٹو لوگوں کو محض ان کے بالوں اور جبوں قبوں کو دیکھ کر خدا رسیدہ جانتے ہیں‘ حالانکہ ایسے لوگوں کے بھیس میں ابلیس کی اولاد ہے جو ایسے بہت سے کم عقلوں کو گمراہ کرکے دوزخی بنانے کا فرض ادا کر رہی ہے۔
اللهم إنا نعوذبك من شرور أنفسنا حدیث سے میدان جہاد میں نیک ترین لوگوں سے دعا کرانے کا ثبوت هُو الدُعاءُ سِلاحُ المؤمنِ مومن کا بہترین ہتھیار دعا ہے۔
سچ ہے ”بلا کو ٹال دیتی ہے دعا اللہ والوں کی۔
“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ والے نیک لوگوں کی دعاؤں کا نفع حاصل کرنا جائز ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرا زمانۂ پھر میرے صحابہ کا زمانۂ اور پھر تابعین کا زمانۂ یہ بہترین زمانے ہیں۔
ان خیرو برکت کے زمانوں میں مسلمان صحیح معنوں میں خدا رسیدہ مسلمان تھے‘ ان کی دعاؤں کو قبول عام حاصل تھا۔
بہرحال ہر زمانے میں ایسے خدا رسیدہ لوگوں کا وجود ضروری ہے۔
ان کی صحبت میں رہنا‘ ان سے دعائیں کرانا اور روحانی فیوض حاصل کرنا عین خوشی نصیبی ہے۔
ایسے ہی لوگوں کو قرآن مجید میں اولیاء اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے جن کی شان میں ﴿الذینَ اٰمنُوا وکانُوا یتقُونَ﴾ کہا گیا ہے کہ وہ لوگ اپنے ایمان میں پختہ اور تقویٰ میں کامل ہوتے ہیں۔
جن میں یہ چیزیں نہ پائی جائیں ان کو اولیاء اللہ جاننا انتہائی حماقت ہے۔
مگر افسوس کہ آج کل بیشتر نام نہاد مسلمان اس حماقت میں مبتلا ہیں کہ وہ بہت سے چرسی افیونی حرام خور نکھٹو لوگوں کو محض ان کے بالوں اور جبوں قبوں کو دیکھ کر خدا رسیدہ جانتے ہیں‘ حالانکہ ایسے لوگوں کے بھیس میں ابلیس کی اولاد ہے جو ایسے بہت سے کم عقلوں کو گمراہ کرکے دوزخی بنانے کا فرض ادا کر رہی ہے۔
اللهم إنا نعوذبك من شرور أنفسنا حدیث سے میدان جہاد میں نیک ترین لوگوں سے دعا کرانے کا ثبوت هُو الدُعاءُ سِلاحُ المؤمنِ مومن کا بہترین ہتھیار دعا ہے۔
سچ ہے ”بلا کو ٹال دیتی ہے دعا اللہ والوں کی۔
“
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2897]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3649
3649. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک وقت آئے گا کہ اہل اسلام کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی شخص ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب ہوئی ہو؟وہ کہیں گے: ہاں، تو انھیں فتح نصیب ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس موقع پر یہ پوچھا جائے گا کہ تم میں کوئی ایساشخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓ کی صحبت اختیار کی ہو؟لوگ کہیں گے: جی ہاں، تو انھیں بھی فتح حاصل ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گے تو اس وقت سوال اٹھے گا: کیا یہاں کوئی ایسے بزرگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے شاگردوں میں سے کسی شاگرد کی صحبت میں رہے ہوں؟لوگ جواب دیں گے: جی ہاں، تو انھیں فتح حاصل ہوگی۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3649]
حدیث حاشیہ:
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین زمانے والوں کی فضیلت بیان فرمائی گویا وہ خیرا لقرون ٹھہرے۔
اسی لیے علماء نے بدعت کی تعریف یہ قرار دی ہے کہ دین میں جو کام نیا نکالاجائے جس کا وجود ان تین زمانوں میں نہ ہو۔
ایسی ہربدعت گمراہی ہے اور جن لوگوں نے بدعت کی تقسیم کی ہے حسنہ اور سیئہ کی طرف، ان کی مراد بدعت سے بدعت لغوی ہے۔
ہمارے مرشد شیخ احمد مجدد سرہندی ؒ فرماتے ہیں کہ میں توکسی بدعت میں سوائے ظلمت اور تاریکی کے مطلق نور نہیں پاتا۔
(وحیدی)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین زمانے والوں کی فضیلت بیان فرمائی گویا وہ خیرا لقرون ٹھہرے۔
اسی لیے علماء نے بدعت کی تعریف یہ قرار دی ہے کہ دین میں جو کام نیا نکالاجائے جس کا وجود ان تین زمانوں میں نہ ہو۔
ایسی ہربدعت گمراہی ہے اور جن لوگوں نے بدعت کی تقسیم کی ہے حسنہ اور سیئہ کی طرف، ان کی مراد بدعت سے بدعت لغوی ہے۔
ہمارے مرشد شیخ احمد مجدد سرہندی ؒ فرماتے ہیں کہ میں توکسی بدعت میں سوائے ظلمت اور تاریکی کے مطلق نور نہیں پاتا۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3649]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2897
2897. حضرت ابو سعید خدری ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ جہاد کریں گے تو کہا جائے گا: تم میں کوئی ایساشخص ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحبت یافتہ ہو؟ جواب دیا جائے گا: ہاں، تو اس (کے ہاتھ) پر فتح دی جائے گی۔ پھر ایک زمانہ آئے گا لوگ پوچھیں گے: آیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓ کی ہم نشینی کی ہو؟ جواب دیاجائے گا: ہاں، تو اس کے ذریعے سے (جب دعا مانگی جائے گی تو) فتح دی جائےگی۔ پھر ایک وقت آئے گا کہ پوچھا جائے گا: کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی صحبت اٹھانے والوں کو دیکھا ہو؟ جواب دیا جائے گا: ہاں، تو (اس کی دعا کے واسطے سے) فتح دی جائے گی۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2897]
حدیث حاشیہ:
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کے مطابق مذکورہ خیر وبرکت صحابہ کرام ؓ تابعین عظام ؒاور تبع تابعین ؒکے حصے میں آئی۔
ان کی دعاؤں کی وجہ سے فتوحات حاصل ہوئیں۔
یہ حضرات اگرچہ دنیاوی معاملات میں کمزور تھے لیکن امور آخرت میں بڑے قوی اور مضبوط تھے۔
2۔
ایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تمام زبانوں سے بہتر میرا زمانہ ہے،پھر صحابہ کرام ؓ اور پھر تابعین عظام ؒ کا۔
“ (صحیح البخاري، الشھادات، حدیث 2651)
ان خیر و برکت کے زمانوں میں مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان تھے۔
ان کی دعاؤں کو قبول عام حاصل تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی شان ان الفاظ میں بیان کی ہے:
”وہ اپنے ایمان میں پختہ اور تقویٰ میں کامل ہوتے ہیں۔
“ (یونس 10/63)
3۔
علامہ ابن بطال ؒ کہتے ہیں:
کمزور لوگ دعا کرتے وقت اخلاص میں بہت آگے اور عبادت میں ان کا خشوع زیادہ ہوتا ہے۔
ان کے دل دنیاوی زیب وزینت سے پاک ہوتے ہیں،اس لیے کمزور لوگوں سے دعا کرانا بہت ہی خیر وبرکت کا باعث ہے۔
(فتح الباري: 109/6)
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیش گوئی کے مطابق مذکورہ خیر وبرکت صحابہ کرام ؓ تابعین عظام ؒاور تبع تابعین ؒکے حصے میں آئی۔
ان کی دعاؤں کی وجہ سے فتوحات حاصل ہوئیں۔
یہ حضرات اگرچہ دنیاوی معاملات میں کمزور تھے لیکن امور آخرت میں بڑے قوی اور مضبوط تھے۔
2۔
ایک حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تمام زبانوں سے بہتر میرا زمانہ ہے،پھر صحابہ کرام ؓ اور پھر تابعین عظام ؒ کا۔
“ (صحیح البخاري، الشھادات، حدیث 2651)
ان خیر و برکت کے زمانوں میں مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان تھے۔
ان کی دعاؤں کو قبول عام حاصل تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء کی شان ان الفاظ میں بیان کی ہے:
”وہ اپنے ایمان میں پختہ اور تقویٰ میں کامل ہوتے ہیں۔
“ (یونس 10/63)
3۔
علامہ ابن بطال ؒ کہتے ہیں:
کمزور لوگ دعا کرتے وقت اخلاص میں بہت آگے اور عبادت میں ان کا خشوع زیادہ ہوتا ہے۔
ان کے دل دنیاوی زیب وزینت سے پاک ہوتے ہیں،اس لیے کمزور لوگوں سے دعا کرانا بہت ہی خیر وبرکت کا باعث ہے۔
(فتح الباري: 109/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2897]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3594
3594. حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ” لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ وہ جنگ کریں گے تو ان سے پوچھا جائےگا: کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھا رکھی ہو؟لوگ کہیں گے: ہاں، (موجود ہیں)تو انھیں(ان کی دعاؤں سے) فتح ہوگی۔ وہ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا: کیا فوج میں کوئی ایسے آدمی ہیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓ کی صحبت اختیار کیے رکھی ہو؟وہ کہیں گے: جی ہان، (موجود ہیں) تو انھیں فتح نصیب ہوگی۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3594]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے۔
”پھر جہاد کے موقع پر پوچھا جائے گا۔
کیا فوج میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے تابعین کی صحبت اٹھائی ہو؟ جواب دیا جائے گا۔
”ہاں“ تو انھیں بھی فتح نصیب ہوگی۔
“ (صحیح البخاري، الجهاد، حدیث: 2897)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”سب سے بہتر زمانہ میرا ہے پھر اس کے بعد آنے والا پھر اس کے بعد آنے والا۔
“ (صحیح البخاري، الشهادات، حدیث: 2651)
مطلب یہ ہے کہ صحا بہ کرام ؓ تابعین عظام اور تبع تابعین میں خیرو برکت ہوگی اس کے بعد زوال شروع ہو جائے گا۔
(فتح الباري: 109/6)
بعض روایات میں چوتھے طبقے کا بھی ذکر ہے مگر وہ روایات معیار محدثین پر پوری نہیں اترتیں،بہر حال اصل تین طبقے ہیں۔
صحابہ کرام ؓ تابعین عظام اور تبع تابعین ؒ اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا۔
واللہ أعلم۔
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے۔
”پھر جہاد کے موقع پر پوچھا جائے گا۔
کیا فوج میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے تابعین کی صحبت اٹھائی ہو؟ جواب دیا جائے گا۔
”ہاں“ تو انھیں بھی فتح نصیب ہوگی۔
“ (صحیح البخاري، الجهاد، حدیث: 2897)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”سب سے بہتر زمانہ میرا ہے پھر اس کے بعد آنے والا پھر اس کے بعد آنے والا۔
“ (صحیح البخاري، الشهادات، حدیث: 2651)
مطلب یہ ہے کہ صحا بہ کرام ؓ تابعین عظام اور تبع تابعین میں خیرو برکت ہوگی اس کے بعد زوال شروع ہو جائے گا۔
(فتح الباري: 109/6)
بعض روایات میں چوتھے طبقے کا بھی ذکر ہے مگر وہ روایات معیار محدثین پر پوری نہیں اترتیں،بہر حال اصل تین طبقے ہیں۔
صحابہ کرام ؓ تابعین عظام اور تبع تابعین ؒ اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3594]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3649
3649. حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک وقت آئے گا کہ اہل اسلام کی جماعتیں جہاد کریں گی تو ان سے پوچھا جائے گا کہ تم میں سے کوئی شخص ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت نصیب ہوئی ہو؟وہ کہیں گے: ہاں، تو انھیں فتح نصیب ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گی اور اس موقع پر یہ پوچھا جائے گا کہ تم میں کوئی ایساشخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ؓ کی صحبت اختیار کی ہو؟لوگ کہیں گے: جی ہاں، تو انھیں بھی فتح حاصل ہوگی۔ پھر لوگوں پر ایک وقت آئے گا کہ مسلمانوں کی جماعتیں جہاد کریں گے تو اس وقت سوال اٹھے گا: کیا یہاں کوئی ایسے بزرگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے شاگردوں میں سے کسی شاگرد کی صحبت میں رہے ہوں؟لوگ جواب دیں گے: جی ہاں، تو انھیں فتح حاصل ہوگی۔“ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3649]
حدیث حاشیہ:
1۔
اس حدیث میں لوگوں کے تین طبقات کا بیان ہے:
پہلا طبقہ صحابہ کرام ؓ کا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اختیار کی یا اس نے آپ کا دیدا رکیا،پھر وہ حالتِ اسلام پر فوت ہوا۔
دوسرا تابعین عظام کا ہے۔
اور تابعین وہ مسلمان ہیں جنھوں نے کم از کم ایک صحابی کی صحبت اٹھائی ہو،پھر اسلام کی حالت میں فوت ہوا ہو۔
تیسر طبقہ تبع تابعین کا ہے۔
ان سے مراد وہ مسلمان ہیں جنھوں نے کسی تابعی کو دیکھا ہو،پھر اسی حالت اسلام میں انھیں موت آئی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین زمانے والوں کی فضیلت بیان کی ہے کہ وہ خیر القرون ہیں جیسا کہ آئندہ حدیث میں آئے گا۔
2۔
اس بناپر بعض علماء نے بدعت کی تعریف یہ کی ہے کہ دین میں کوئی ایسا نیا کام ایجاد کیا جائے جس کا وجود خیرالقرون میں نہ ہو،ایسی ہربدعت گمراہی ہے۔
1۔
اس حدیث میں لوگوں کے تین طبقات کا بیان ہے:
پہلا طبقہ صحابہ کرام ؓ کا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اختیار کی یا اس نے آپ کا دیدا رکیا،پھر وہ حالتِ اسلام پر فوت ہوا۔
دوسرا تابعین عظام کا ہے۔
اور تابعین وہ مسلمان ہیں جنھوں نے کم از کم ایک صحابی کی صحبت اٹھائی ہو،پھر اسلام کی حالت میں فوت ہوا ہو۔
تیسر طبقہ تبع تابعین کا ہے۔
ان سے مراد وہ مسلمان ہیں جنھوں نے کسی تابعی کو دیکھا ہو،پھر اسی حالت اسلام میں انھیں موت آئی ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین زمانے والوں کی فضیلت بیان کی ہے کہ وہ خیر القرون ہیں جیسا کہ آئندہ حدیث میں آئے گا۔
2۔
اس بناپر بعض علماء نے بدعت کی تعریف یہ کی ہے کہ دین میں کوئی ایسا نیا کام ایجاد کیا جائے جس کا وجود خیرالقرون میں نہ ہو،ایسی ہربدعت گمراہی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3649]
Musnad al-Humaydi Hadith 760 in Urdu
جابر بن عبد الله الأنصاري ← أبو سعيد الخدري