🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 852
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 852
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَرْبَعَةٌ أَوْ خَمْسَةٌ مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً، وَقَالَ:" لَوْ أَدْرَكْتُهُ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے مرنے کے قریب اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا۔ اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں اس تک پہنچ گیا تو میں اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کروں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 852]
تخریج الحدیث: «في إسناده علتان: الأولى: ضعف على بن زيد بن جدعان، والعلة الثانية القطاعه فالحسن البصري لم يثبت له سماع من عمران والله أعلم. غير أن الحديث صحيح فقد أخرجه مسلم فى الأيمان 1668، وقد استوفينا تخرجه فى صحيح ابن حبان برقم 4320 4542 5075، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1957، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2096، 4955، 4956، 4957، 4958، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3958، 3961، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1364، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2345، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12673، 12674، 12675، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 20140 برقم: 20160»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن زيد القرشي ← الحسن البصري
ضعيف الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← علي بن زيد القرشي
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3958
أقرع بينهم فأعتق اثنين وأرق أربعة
مسندالحميدي
852
لو أدركته ما صليت عليه
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 852 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:852
فائدہ:
اس سے معلوم ہوا کہ وصیت زیادہ سے زیادہ تیسرا حصہ کرنا درست ہے اس طرح اپنے مال کا تیسرا حصہ خرچ کرنا درست ہے۔ اگر کوئی غلط بات کر دے تو اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 852]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3958
کوئی شخص اپنے غلاموں کو آزاد کرے جو تہائی مال سے زائد ہوں تو کیا حکم ہے؟
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس اسے سخت سست کہا پھر انہیں بلایا اور ان کے تین حصے کئے: پھر ان میں قرعہ اندازی کی پھر ان میں سے دو کو (جن کے نام قرعہ میں نکلے) آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب العتق /حدیث: 3958]
فوائد ومسائل:
1) کتاب الوصایا میں یہ گزرا ہے کہ کسی شخص کو اپنے تہائی مال سے زیادہ میں وصیت کرنے کی اجازت نہیں ہے، اسی بنیاد پر مذکورہ بالا واقعہ میں اس شخص کی غلط وصیت کو منسوخ کر کے شریعت کے مطابق عمل کیاگیا۔

2) امیر المومنین اور مسلمان عمال کا فریضہ ہے کہ مسلمان عوام الناس کے جملہ امور پر نگاہ رکھیں کہ کہیں بھی شریعت کی مخالفت نہ ہو نے پائے۔

3) غلط وصیت کومنسوخ کرکےشریعت کےمطابق عمل کرنا کرانا چاہئے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3958]