🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب ما لا يجب فيه الوضوء
جن امور سے وضو لازم نہیں آتا ان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ"
حضرت ابراہیم بن عبدالرحمٰن کی ام ولد نے پوچھا اُم المؤمنین سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہ میرا دامن نیچا اور لمبا رہتا ہے، اور ناپاک جگہ میں چلنے کا اتفاق ہوتا ہے، تو کہا سیّدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: پاک کرتا ہے اس کو جو بعد اس کے ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 44]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 383، والترمذي فى «جامعه» برقم: 143، والدارمي فى «مسنده» برقم: 769، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 531، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4168، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27131، 27328، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6925، 6981، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 620، والطبراني فى «الكبير» برقم: 845، 846، شركة الحروف نمبر: 41، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 16» سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح لغیرہ کہا ہے، امام منذری رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے جبکہ امام ابن العربی رحمہ اللہ اور امام ہیثمی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے۔ [جلباب المرأة المسلمة: ص 81]

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حميدة أم ولد إبراهيممقبول
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← حميدة أم ولد إبراهيم
ثقة
👤←👥محمد بن عمارة الأنصاري
Newمحمد بن عمارة الأنصاري ← محمد بن إبراهيم القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
143
يطهره ما بعده
سنن أبي داود
383
يطهره ما بعده
سنن ابن ماجه
531
يطهره ما بعده
موطأ مالك رواية يحيى الليثي
44
يطهره ما بعده
موطا امام مالك رواية يحييٰ کی حدیث نمبر 44 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافظ ابو سمیعہ محمود تبسم، فوائد، موطا امام مالک : 44
فائدہ:
... معلوم ہوا کہ زمین خشک ہو کر پاک ہو جاتی ہے اور جس کپڑے یا جوتے وغیرہ کو نجاست لگ جائے اُسے زمین کا خشک حصہ پاک کر دیتا ہے، یہ حدیث مبارکہ خشک اور گیلی نجاست میں فرق کی دلیل کے طور پر بھی پیش کی جاتی ہے، بہر حال امام مالک رحمہ اللہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ جسم یا کپڑے پر نجاست لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا، بنو عبد الاشہل کی ایک عورت نے بارش کے حوالے سے یہی مذکورہ مسئلہ پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أَلَيْسَ بَعْدَهَا طرِيقٌ هِيَ أَطيبُ مِنْهَا؟»
کیا اس (گیلی جگہ) کے بعد ایسا راستہ نہیں آتا جو اس سے زیادہ پاکیزہ ہے؟
اُس نے کہا: کیوں نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«فهذه بهذه»
تو یہ اُس کے بدلے میں ہے۔
[ابو داود: 384، اس كي سند صحيح هے]
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«اذَا وَطِئَ أَحَدُكُمْ بِنَعْلِهِ الأذى فَإِنَّ التُّرَابَ لَهُ طَهُور»
جب تم میں سے کوئی اپنے جوتے سے گندگی کو روندے تو یقیناََ مٹی اُسے پاک کرنے والی ہے۔
[ابو داود: 387 - 385، اس كي سند صحيح لغيره هے]
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
«كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَلَا نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَوْطِئ»
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کیا کرتے تھے اور (نجاست) روندنے کی وجہ سے (نیا) وضو نہیں کیا کرتے تھے۔
[ترمذي: 143، ابو داؤد: 204، ابن ماجه: 1041، حاكم: 139/1، اس كي سند صحيح هے]
[موطا امام مالک از ابو سمیعہ محمود تبسم، حدیث/صفحہ نمبر: 44]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 383
دامن میں گندگی لگ جائے تو کیا کرے؟
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد (حمیدہ) سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ میں اپنا دامن لمبا رکھتی ہوں (جو زمین پر گھسٹتا ہے) اور میں نجس جگہ میں بھی چلتی ہوں؟ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اس کے بعد کی زمین (جس پر وہ گھسٹتا ہے) اس کو پاک کر دیتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 383]
383۔ اردو حاشیہ:
➊ اگر نجاست غلیظ کا اثر پاک مٹی سے گھسٹنے سے زائل ہو جائے تو یہ کپڑا پاک شمار ہو گا، اگر زائل نہ ہو تو دھو لیا جائے۔
➋ خیرالقرون میں خواتین کے پردے کا یہ حال تھا کہ وہ اپنے پاؤں ڈھانپنے کا بھی اہتمام کرتی تھیں، نیز انہیں طہارت کا ازحد خیال رہتا تھا کہ اس طرح کے مسائل تفصیل سے دریافت کیا کرتی تھیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 383]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث531
پاک زمین ناپاک زمین کی نجاست کو پاک کر دیتی ہے۔
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد سے روایت ہے کہا انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھا: میرا دامن بہت لمبا ہے، اور مجھے گندی جگہ میں چلنا پڑتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ناپاک زمین کے بعد والی زمین اس دامن کو پاک کر دیتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 531]
اردو حاشہ:
گندی جگہ سے گزرتے وقت اگر کپڑا اسے چھوجاتا ہے یا جوتے اسے لگتے ہیں تو اس کی وجہ سے وسوسے میں مبتلا نہیں ہونا چاہیےاگر کوئی نجاست کپڑے یا جوتے کو جسم میں لگی ہوئی نظرنہیں آرہی تو سمجھنا چاہیے کہ وہ صاف زمین پر چلنے کی وجہ سے خود بخود پاک ہوگیا ہے۔
ہاں اگر کوئی چیز اسے لگی ہے توپھر یقیناً وہ نجس ہے اسے دھونا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 531]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 143
گندی جگہوں پر سے ننگے پاؤں گزرنے سے پاؤں دھونے کا بیان۔
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے کہا: میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پر بھی چلنا ہوتا ہے، (تو میں کیا کروں؟) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اس کے بعد کی (پاک) زمین اسے پاک کر دیتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 143]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں ام ولد عبدالرحمن یا ام ولد ابراہیم بن عبدالرحمن مبہم ہیں،
لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 143]