مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
1. باب بيان تعليم أوقات الصلوات بواسطة جبريل عليه السلام
باب جبریل علیہ السلام کے ذریعہ نمازوں کے اوقات کی تعلیم کا بیان
حدیث نمبر: 59
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَتَى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ إِلَى مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ وَمَالَتْ، فَقَالُ:" قُمْ فَصَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلَّى الْعَصْرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ أَضَاءَ الْفَجْرُ وَأَسْفَرَ، فَقَالَ: قُمْ فَصَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَاهُ مِنَ الْغَدِ لِصَلاةِ الظُّهْرِ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، فَصَلَّى الظُّهْرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، فَصَلَّى الْعَصْرَ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَتَاهُ لِلْوَقْتِ الأَوَّلِ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَتَاهُ بَعْدَ مَا غَابَ الشَّفَقُ وَأَظْلَمَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، ثُمَّ أَتَاهَ بَعْدَ أَنْ أَضَاءَ الْفَجْرُ وَأَسْفَرَ، فَصَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَيْنَ هَذَيْنِ صَلاةٌ" ، يُرِيدُ الْوَقْتَ.
سيدنا ابو موسیٰ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جبریل علیہ السلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سورج ڈھل جانے کے بعد آئے تو عرض کی! آپ کھڑے ہو جائیں اور نماز ظہر چار رکعات پڑھائیں، پھر جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا تو آئے اور کہا: آپ کھڑے ہو جائیں اور نماز عصر چار رکعات پڑھائیں، پھر جب سورج غروب ہو گیا تو حاضر ہوئے اور عرض کی آپ کھڑے ہو جائیں نماز مغرب ادا کیجیے۔ پھر جب سرخی غائب ہو گئی تو حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ کھڑے ہو جائیں اور نماز عشاء چار رکعات پڑھائیں پھر حاضر ہوئے تو فجر خوب روشن ہو چکی تھی، عرض کیا آپ کھڑے ہو جائیں اور نماز فجر دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر دوسرے دن جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو چکا تھا تو حاضر ہوئے اور کہا نماز ظہر چار رکعات پڑھیں، پھر جب ہر چیز کا سایہ اس کے دومثل ہو گیا تو حاضر ہوئے اور کہا نماز عصر چار رکعات ادا کیجیے، پھر اسی پہلے وقت میں حاضر ہوئے جب سورج غروب ہوا، اور آپ نے نماز مغرب پڑھی، پھر سرخی غائب ہونے کے بعد خوب اندھیرا ہونے پر حاضر ہوئے اور نماز عشاء پڑھائی، پھر حاضر ہوئے جبکہ فجر خوب روشن ہو چکی تھی اور نماز فجر دو رکھتیں پڑھائی۔ پھر جبریل علیہ السلام نے فرمایا: نمازوں کے اوقات ان دو وقتوں کے درمیان ہیں۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن عروة بن الزبير/حدیث: 59]
تخریج الحدیث: «اسناده منقطع و الحديث صحيح: سنن الكبرى للبيهقي: 362/1، شيخ بديع الدين رحمه الله فرماتے هيں: اس حديث ميں انقطاع هے ابو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم نے ابو مسعود انصاري رضى الله عنه سے نهيں سنا تا هم اس كي اصل صيحين ميں هے. ديكهئے. بخاري، بدء الخلق، باب ذكر الملائكة صلوات الله عليهم 3221، 521، مسلم، المساجد، باب اوقات الصلوة 610»
الرواة الحديث:
أبو بكر بن عمرو الأنصاري ← أبو مسعود الأنصاري