مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
3. باب ذكر أوصاف حوض النبي صلى الله عليه وسلم وتقدم الفقراء والمهاجرين
باب حوضِ نبوی کے اوصاف اور فقراء مہاجرین کے سبقت حاصل کرنے کا ذکر
حدیث نمبر: 65
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا شَدَّادٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلامٍ الأَسْوَدِ ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا دَخَلْتُ قَالَ لِي: ادْنُهُ ادْنُهْ، حَتَّى كَادَتْ رُكْبَتِي تَلْزَقُ بِرُكْبَتِهِ، فَقَالَ حَدِّثْنِي حَدِيثَ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ. قَالَ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ، أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، أَكَاوِيبُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، وَأَوَّلُ النَّاسِ عَلَيَّ وُرُودًا الْمُهَاجِرُونَ، الشُّعْثُ رُءُوسًا، الدُّنُسُ ثِيَابًا، الَّذِينَ لا يُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ، وَلا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلا يَأْخُذُونَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ" ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَمَّا الْمُتَنَعِّمَاتُ فَقَدْ نَكَحْتُ بِنْتَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَأَمَّا السُّدَدُ فَقَدْ فُتِحَتْ لِي، وَاللَّهِ لأُشَعِّثَنَّ رَأْسِي، وَلأُدَنِّسَنَّ ثَوْبِي.
ابو سلام الإسود کہتے ہیں میری طرف عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے پیغام بھیجا تو میں ان کے پاس حاضر ہوا، جب میں داخل ہوا تو انہوں نے مجھے کہا قریب ہو جاؤ، قریب ہو جاؤ، میں اتنا قریب ہوا حتٰی کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں سے جا ملے، تو انہوں نے کہا: مجھے ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض سے متعلق حدیث بیان کریں۔ ابو سلام الاسود نے کہا: میں نے ثوبان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میرا حوض عدن سے عمان تک (کی مسافت جتنا لمبا چوڑا) ہے، شہد سے میٹھا اور (اس کا پانی) دودھ سے زیادہ سفید ہے، اس کے پیالے آسمان کے ستاروں کی (تعداد کی) طرح ہیں، جس نے اس سے ایک بار پانی پی لیا اسے اس کے بعد کبھی بھی پیاس نہیں لگے گی۔ سب سے پہلے میرے پاس وہ مہاجر آئیں گے جن کے سر پراگندہ، کپڑے میلے ہوں گے۔ جن کے لیے بند دروازے نہیں کھلتے، وہ ناز و نعمت میں پرورش پانے والی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے، اپنے ذمہ فرائض ادا کرتے ہیں، اور اپنے حق سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔“ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: رہی ناز و نعت میں پلنے والی عورتیں، میں نے تو عبد الملک کی بیٹی (فاطمہ) سے شادی کی ہے، اور بند دروازے بھی میرے لیے کھولے گئے اللہ کی قسم! میں ضرور اپنے سر کو پراگندہ اور اپنے کپڑوں کو میلا کروں گا۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أبي سلام/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: «صحيح: سنن ابن ماجه، الزهد باب ذكر الحوض 4303»
الرواة الحديث:
ممطور الأسود الحبشي ← ثوبان بن بجدد القرشي