مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
0. باب ذكر الكرم وحقوق الجوار وآداب الدخول في الحمام
باب مہمان نوازی، ہمسائے کے حقوق اور حمام میں داخل ہونے کے آداب کا بیان
حدیث نمبر: 96
حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ شَاكِرٍ السَّمَرْقَنْدِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ثنا أَبُو قُرَّةَ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ ، قَالَ: ذَكَرَ زَمْعَةُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدِيثٌ حَدَّثَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي أَنْ سَلْ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ حَدِيثِهِ فَإِنَّهُ رِضًا، فَسَأَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلا بِمِئْزَرٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ فَلا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ" , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: فَكَتَبَ أَبِي إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِذَلِكَ، فَمَنَعَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ النِّسَاءَ مِنَ الْحَمَّامِ.
عبد اللہ بن ابو بکر بن حزم نے کہا عمر بن عبد العزیز کے سامنے حدیث پیش کی گئی جسے محمد بن ثابت بن شرحبیل نے بیان کیا تھا تو انہوں نے میرے باپ کو پیغام بھیجا کہ اس حدیث کے بارے مجھے محمد بن ثابت سے پوچھ کر بتائیں وہ اچھے انسان ہیں جب ان سے میرے باپ نے پوچھا تو میں بھی وہاں موجود تھا تو ہمیں محمد بن ثابت نے عبداللہ بن یزید خطمی سے بیان کیا انہوں نے کہا: سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں بغیر ازار بند نہ داخل ہو اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر تمہاری عورتوں میں سے ایمان رکھتی ہے وہ حمام میں داخل نہ ہو۔ عبد اللہ بن ابوبکر نے بیان کیا میرے باپ نے یہ حدیث عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو لکھ کر بھیجی تو انہوں نے عورتوں کے حمام میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن محمد بن ثابت بن شرحبيل/حدیث: 96]
تخریج الحدیث: «صحيح: سنن الكبرى للبيهقي: 309/7، والشعب له: 461/13، 7379، وابن حبان: 5597، وصححه الحاكم: 289/4، ووافقه الذهبي»
الرواة الحديث:
عبد الله بن يزيد الأوسي ← أبو أيوب الأنصاري