سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْوُضُوءِ، فَقَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ،" فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأُتِيَ بِمِيضَأَةٍ فَأَصْغَى عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى، ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَاءِ، فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخَذَ مَاءً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ فَغَسَلَ بُطُونَهُمَا وَظُهُورَهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُونَ عَنِ الْوُضُوءِ؟ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَحَادِيثُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصِّحَاحُ كُلُّهَا تَدُلُّ عَلَى مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةٌ فَإِنَّهُمْ ذَكَرُوا الْوُضُوءَ ثَلَاثًا وَقَالُوا فِيهَا: وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَلَمْ يَذْكُرُوا عَدَدًا كَمَا ذَكَرُوا فِي غَيْرِهِ.
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ سے وضو کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے پانی منگایا، پانی کا لوٹا لایا گیا، آپ نے اسے اپنے داہنے ہاتھ پر انڈیلا (اور اس سے اپنا ہاتھ دھویا) پھر ہاتھ کو پانی میں داخل کیا، تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈالا، تین بار منہ دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ تین بار دھویا، تین بار اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر پانی میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور پانی لے کر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے اندر اور باہر کا ایک ایک بار مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے پھر کہا: وضو سے متعلق سوال کرنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے وضو کے باب میں جو صحیح حدیثیں مروی ہیں، وہ سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک ہی بار ہے کیونکہ ناقلین حدیث نے ہر عضو کو تین بار دھونے کا ذکر کیا ہے اور سر کے مسح کا ذکر مطلقاً کیا ہے اس کی کوئی تعداد ذکر نہیں کی جیسا کہ ان لوگوں نے اور چیزوں میں ذکر کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی کہتے ہیں کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان سے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پانی منگوایا، چنانچہ ایک برتن لایا گیا۔ انہوں نے اسے اپنے دائیں ہاتھ پر جھکایا، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں ڈالا اور تین بار کلی کی، تین بار ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ دھویا تین بار اور بایاں ہاتھ تین بار، پھر اپنا ہاتھ (برتن میں) ڈالا اور پانی لیا اور سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، ان کے اندر اور باہر سے ایک بار، پھر اپنے پاؤں دھوئے اور فرمایا: کہاں ہیں وضو کے بارے میں سوال کرنے والے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی وضو کرتے دیکھا تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تمام صحیح روایات دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سر کا مسح ایک ہی بار کیا تھا۔ سب راوی وضو کو تین تین بار ذکر کرتے ہیں مگر (مسح کے بارے میں اتنا ہی) کہتے کہ ”انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا۔“ اور اس میں عدد کا ذکر نہیں کرتے جیسے کہ باقی اعضاء میں کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9820) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد المؤذن: مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد المؤذن: مجھول الحال،وثقه ابن حبان وحده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 16
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1934
| توضأ فأفرغ على يديه ثلاثا ثم تمضمض واستنثر ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاثا ثم غسل يده اليسرى إلى المرفق ثلاثا ثم مسح برأسه ثم غسل رجله اليمنى ثلاثا ثم اليسرى ثلاثا |
صحيح مسلم |
545
| توضأ ثلاثا ثلاثا |
سنن أبي داود |
108
| تمضمض ثلاثا واستنثر ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا ثم غسل يده اليمنى ثلاثا وغسل يده اليسرى ثلاثا ثم أدخل يده فأخذ ماء فمسح برأسه وأذنيه فغسل بطونهما وظهورهما مرة واحدة ثم غسل رجليه |
سنن ابن ماجه |
430
| توضأ فخلل لحيته |
سنن ابن ماجه |
435
| توضأ فمسح رأسه مرة |
سنن الدارمي |
716
| مضمض واستنشق وغسل وجهه ثلاثا ويديه ثلاثا ومسح برأسه وغسل رجليه ثلاثا ثم قال من توضأ وضوئي هذا ثم صلى ركعتين لا يحدث فيهما نفسه غفر له ما تقدم من ذنبه |
سنن الدارمي |
731
| توضأ فمسح برأسه وأذنيه ظاهرهما وباطنهما ثم قال رأيت رسول الله صنع كما صنعت أو كالذي صنعت |
سنن الدارمي |
727
| توضأ فخلل لحيته |
صحيح ابن خزيمة |
3
| توضأ فغسل كفيه ثلاث مرات واستنثر ثم غسل وجهه ثلاث مرات ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاث مرات ثم غسل يده اليسرى مثل ذلك ثم مسح برأسه ثم غسل رجله اليمنى إلى الكعبين ثلاث مرات ثم غسل رجله اليسرى مثل ذلك |
Sunan Abi Dawud Hadith 108 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عثمان بن عفان