علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
228. باب الإمام يكلم الرجل في خطبته
باب: امام کا خطبہ کے دوران کسی آدمی سے بات کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 1091
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: لَمَّا اسْتَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَ:" اجْلِسُوا" فَسَمِعَ ذَلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" تَعَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يُعْرَفُ مُرْسَلًا، إِنَّمَا رَوَاهُ النَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَخْلَدٌ هُوَ شَيْخٌ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر اچھی طرح سے بیٹھ گئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ“، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (جو اس وقت مسجد کے دروازے پر تھے) اسے سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے، تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: ”عبداللہ بن مسعود! تم آ جاؤ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث مرسلاً معروف ہے کیونکہ اسے لوگوں نے عطاء سے، عطاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اور مخلد شیخ ہیں، (یعنی مراتب تعدیل کے پانچویں درجہ پر ہیں جن کی روایتیں ”حسن“ سے نیچے ہی ہوتی ہیں، الا یہ کہ ان کا کوئی متابع موافق ہو) [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1091]
جناب عطاء بن ابی رباح، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک بار) جمعہ کے روز جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منبر پر) برابر (تشریف فرما) ہو گئے تو فرمایا: ”بیٹھ جاؤ!“ اسے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سنا تو مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: ”اے عبداللہ بن مسعود! آگے آ جاؤ۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کا مرسل ہونا معروف ہے۔ محدثین کی ایک جماعت اسے عطاء (تابعی) سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (یعنی درمیان میں صحابی کا واسطہ متروک ہے) اور مخلد ”شیخ“ ہے۔ (یعنی اس کی حدیث لکھی جاتی ہے۔)“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2464) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1418)
أخرجه الحاكم (1/283، 284 وسنده قوي) ابن جريج عن عطاء بن أبي رباح محمولة علي السماع
مشكوة المصابيح (1418)
أخرجه الحاكم (1/283، 284 وسنده قوي) ابن جريج عن عطاء بن أبي رباح محمولة علي السماع
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1091 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1091
1091۔ اردو حاشیہ:
➊ خطیب کو حق حاصل ہے کہ سامعین سے حسب ضرورت کوئی بات کر سکتا ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعمیل ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت دیکھیے کہ حکم سنتے ہی بیٹھ گئے اور قدم تک نہیں بڑھایا۔ اس قسم کے لوگوں پر زبان طعن دراز کرنا کہ یہ لوگ بعد از وفات نبی صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ) مرتد ہو گئے تھے یا منافق بن گئے تھے اپنے خبث باطن کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں۔
➋ احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خطبے کے دوران سامعین کو آپس میں گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ہے، مگر خطیب بات کر سکتا ہے۔
➌ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی فوراً بلاتاخیر تعمیل ضروری ہے۔
➊ خطیب کو حق حاصل ہے کہ سامعین سے حسب ضرورت کوئی بات کر سکتا ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تعمیل ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت دیکھیے کہ حکم سنتے ہی بیٹھ گئے اور قدم تک نہیں بڑھایا۔ اس قسم کے لوگوں پر زبان طعن دراز کرنا کہ یہ لوگ بعد از وفات نبی صلی اللہ علیہ وسلم (نعوذ باللہ) مرتد ہو گئے تھے یا منافق بن گئے تھے اپنے خبث باطن کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں۔
➋ احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خطبے کے دوران سامعین کو آپس میں گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ہے، مگر خطیب بات کر سکتا ہے۔
➌ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی فوراً بلاتاخیر تعمیل ضروری ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1091]
Sunan Abi Dawud Hadith 1091 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري