علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
227. باب النداء يوم الجمعة
باب: جمعہ کے دن اذان دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ،حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ابْنَ أُخْتِ نَمِرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" وَلَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُؤَذِّنٍ وَاحِدٍ"، وَسَاقَ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَيْسَ بِتَمَامِهِ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مؤذن کے علاوہ اور کوئی مؤذن نہیں تھا۔ اور راوی نے یہی حدیث بیان کی لیکن پوری نہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1090]
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی مؤذن تھا۔“ صالح نے یہ حدیث بیان کی، مگر کامل نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1087، (تحفة الأشراف: 3799) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (1087)
انظر الحديث السابق (1087)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥السائب بن يزيد الكندي، أبو يزيد | صحابي صغير | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← السائب بن يزيد الكندي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث صالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة ثبت | |
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق إبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي | ثقة حجة | |
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري | ثقة | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي | ثقة حافظ جليل |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1090 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1090
1090۔ اردو حاشیہ:
اس روایت کا پس منظر یہ ہے کہ خیرالقرون کے بعد جب مساجد بڑی بڑی بننے لگیں اور آبادی میں اضافہ ہو گیا تو جامع مساجد کے ہر ہر منارے پر ایک موذن مقرر کیا جانے لگا، تو ایک نماز کے لئے ایک مسجد میں کئی کئی موذن اذان دیتے تھے۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ ایک موذن کا اذان کہنا ہی سنت ہے نہ کہ متعدد کا۔ دور رسالت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت ابن ام مکتوم، سعد القرظ، اور ابومحذورہ رضوان اللہ عنہم اجمعین بھی موذن تھے۔ حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ مکہ میں تھے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ قباء میں۔
اس روایت کا پس منظر یہ ہے کہ خیرالقرون کے بعد جب مساجد بڑی بڑی بننے لگیں اور آبادی میں اضافہ ہو گیا تو جامع مساجد کے ہر ہر منارے پر ایک موذن مقرر کیا جانے لگا، تو ایک نماز کے لئے ایک مسجد میں کئی کئی موذن اذان دیتے تھے۔ حدیث کا مقصد یہ ہے کہ ایک موذن کا اذان کہنا ہی سنت ہے نہ کہ متعدد کا۔ دور رسالت میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے علاوہ حضرت ابن ام مکتوم، سعد القرظ، اور ابومحذورہ رضوان اللہ عنہم اجمعین بھی موذن تھے۔ حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ مکہ میں تھے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ قباء میں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1090]
Sunan Abi Dawud Hadith 1090 in Urdu
محمد بن شهاب الزهري ← السائب بن يزيد الكندي