🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
230. باب الخطبة قائما
باب: کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ" وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی الکبری/ الصلاة العیدین 23 (1788)، (تحفة الأشراف: 2197) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن سمرة العامري، أبو خالد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← جابر بن سمرة العامري
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة ثبت
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل
Newالفضيل بن الحسين الجحدري ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة حافظ
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1095 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1095
1095۔ اردو حاشیہ:
➊ خطبے کی جملہ احادیث سے یہ مسئلہ اخذ ہوتا ہے کہ اس عمل میں مقصود مطلوب سامعین کو وعظ و تذکیر ہے۔ اس لئے اگر سامعین عجمی ہوں عربی نہ سمجھتے ہوں۔ تو انہیں ان کی زبان میں وعظ کیا جائے۔ اس پر یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ پھر تو نماز میں بھی ترجمہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ خطبہ عبادت کے ساتھ ساتھ وعظ و نصیحت بھی ہے، جبکہ نماز خالص عبادت ہے۔ اس میں ذکر اور قرآن کی تلاوت متعین ہے۔ ذکر اور تذکیر میں فرق ہے۔ جیسے کہ قرآن کا ترجمہ قرآن نہیں ہے۔ وہ محض ترجمانی ہے۔ اس لیے نماز کو خطبے پر قیاس کرنا جائز نہیں۔ عجوبہ یہ ہے کہ ان حضرات نے نماز تو۔۔۔ ایک روایت کے مطابق۔۔۔ عجمی زبان میں جائز کر دی ہے۔ مگر خطبے کے لئے یہ گنجائش نہ نکال سکے۔
➋ اصحاب الحدیث کے خطبات جمعہ و عیدین بحمد اللہ سنت کے عین مطابق نبوی خطبات کے عربی الفاظ پر مشتمل ہوتے ہیں۔ قرآن کریم کی آیات اور اکثر احادیث بھی عربی میں پڑھی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ سامعین کی زبان میں معانی و مفاہیم بیان کیے جاتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1095]