🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

230. باب الْخُطْبَةِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1093
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ قَائِمًا، فَمَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ كَذَبَ، فَقَالَ: فَقَدْ وَاللَّهِ صَلَّيْتُ مَعَهُ أَكْثَرَ مِنْ أَلْفَيْ صَلَاةٍ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کے دن) کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر (تھوڑی دیر) بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، لہٰذا جو تم سے یہ بیان کرے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے تو وہ غلط گو ہے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھ چکا ہوں ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1093]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے (یعنی پہلا خطبہ)، پھر بیٹھ جاتے، پھر (دوسرے کے لیے) کھڑے ہوتے اور کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے تھے، اور جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر خطبہ دیتے تھے اس نے جھوٹ کہا، اللہ کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، (تحفة الأشراف: 2156)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة 32 (1416)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1105)، مسند احمد (5/89، 90، 91، 92، 93، 94، 95، 97، 98، 99، 100، 101، 102، 107)، سنن الدارمی/الصلاة 199(1598) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ان میں (۵۰) جمعے بھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، یہ مراد نہیں کہ میں نے دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھے ہیں، کیونکہ دو ہزار جمعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے وقت سے لے کر وفات تک بھی نہیں ہوتے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (862)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1094
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَتَانِ كَانَ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (جمعہ کے دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوتے تھے، ان دونوں خطبوں کے درمیان آپ (تھوڑی دیر) بیٹھتے تھے، (خطبہ میں) آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1094]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو خطبے ہوا کرتے تھے۔ آپ ان دونوں کے درمیان میں بیٹھا کرتے تھے۔ آپ قرآن پڑھتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجمعة 10 (862)، (تحفة الأشراف: 2169) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (862)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1095
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ قَعْدَةً لَا يَتَكَلَّمُ" وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر خطبہ دیتے دیکھا پھر آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھتے تھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1095]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر مختصر سا بیٹھ جاتے اور اس دوران میں کوئی گفتگو نہ کرتے تھے اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی الکبری/ الصلاة العیدین 23 (1788)، (تحفة الأشراف: 2197) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں