🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

231. باب الرَّجُلِ يَخْطُبُ عَلَى قَوْسٍ
باب: کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1096
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ خِرَاشٍ، حَدَّثَنِي شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ الطَّائِفِيُّ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى رَجُلٍ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ: الْحَكَمُ بْنُ حَزْنٍ الْكُلَفِيُّ فَأَنْشَأَ، يُحَدِّثُنَا، قَالَ: وَفَدْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ، أَوْ تَاسِعَ تِسْعَةٍ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زُرْنَاكَ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ، فَأَمَرَ بِنَا، أَوْ أَمَرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنَ التَّمْرِ وَالشَّأْنُ إِذْ ذَاكَ دُونٌ فَأَقَمْنَا بِهَا أَيَّامًا شَهِدْنَا فِيهَا الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَقَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى عَصًا أَوْ قَوْسٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ خَفِيفَاتٍ طَيِّبَاتٍ مُبَارَكَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوا أَوْ لَنْ تَفْعَلُوا كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَأَبْشِرُوا". قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْت أَبُو دَاوُد، قَالَ: ثَبَّتَنِي فِي شَيْءٍ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا وَقَدْ كَانَ انْقَطَعَ مِنَ الْقِرْطَاسِ.
شہاب بن خراش کہتے ہیں کہ شعیب بن زریق طائفی نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ میں ایک شخص کے پاس (جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف صحبت حاصل تھا، اور جسے حکم بن حزن کلفی کہا جاتا تھا) بیٹھا تو وہ ہم سے بیان کرنے لگا کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں اس وفد کا ساتواں یا نواں آدمی تھا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کی زیارت کی ہے تو آپ ہمارے لیے خیر و بہتری کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کھجوریں ہم کو دینے کا حکم دیا اور حالت اس وقت ناگفتہ بہ تھی، پھر ہم وہاں کچھ روز ٹھہرے رہے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ میں بھی حاضر رہے، آپ ایک عصا یا کمان پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے چند ہلکے، پاکیزہ اور مبارک کلمات کے ذریعہ اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: لوگو! تم سارے احکام کو جن کا تمہیں حکم دیا جائے بجا لانے کی ہرگز طاقت نہیں رکھتے یا تم نہیں بجا لا سکتے، لیکن درستی پر قائم رہو اور خوش ہو جاؤ۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد کو کہتے ہوئے سنا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے کچھ کلمات مجھے ایسے لکھوائے جو کاغذ سے کٹ گئے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1096]
شعیب بن رزیق طائفی بیان کرتے ہیں کہ میں ایک صاحب کے ہاں بیٹھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی، انہیں حکم بن حزن کلفی رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا۔ وہ ہم سے بیان کرنے لگے کہ میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر ہوا، میں سات میں سے ساتواں یا نو میں سے نواں فرد تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی زیارت کے لیے آئے ہیں، ہمارے لیے دعائے خیر فرمائیے۔ آپ نے ہمارے لیے کسی قدر کھجوروں کا حکم دیا، حالت ان دنوں بہت کمزور تھی۔ ہم آپ کے ہاں کئی دن مقیم رہے، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ پڑھنے کا موقع بھی ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک لاٹھی یا کمان کا سہارا لیے ہوئے کھڑے ہوئے۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، آپ کے الفاظ مختصر، پاکیزہ اور بابرکت تھے۔ پھر فرمایا: لوگو! جو احکام تمہیں دیے جاتے ہیں تم ان سب کی طاقت نہیں رکھتے ہو، یا انہیں ہرگز نہیں کر سکتے ہو، لیکن استقامت و اعتدال اختیار کرو اور خوش ہو جاؤ۔ جناب ابوعلی رحمہ اللہ (لؤلؤی، تلمیذ امام ابوداؤد رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ میں نے امام ابوداؤد رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ اس حدیث کا کچھ حصہ مجھے میرے ساتھیوں نے یاد کرایا ہے جو کہ میرے کاغذ سے ضائع ہو گیا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 3419)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/212) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1444)
صححه ابن خزيمة (1452 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (1145)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مِنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ وَلَا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو کہتے: «الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادي له، وأشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة، من يطع الله ورسوله فقد رشد، ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا» ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے، ہم اسی سے مدد ما نگتے ہیں اور اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، ہم اپنے نفس کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں برحق رسول بنا کر قیامت آنے سے پہلے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ سیدھی راہ پر ہے، اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1097]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (خطبے میں) تشہد پڑھتے، تو کہا کرتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ، وَلَا يَضُرُّ اللَّهَ شَيْئًا» تمام طرح کی حمد و ثنا اللہ کے لیے ہے۔ ہم اس سے مدد چاہتے اور معافی مانگتے ہیں۔ اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ بھٹکا دے اسے کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اللہ نے ان کو قیامت سے پہلے حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پا گیا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اللہ کا کچھ نہیں بگاڑتا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 9636) ویأتی ہذا الحدیث فی النکاح (2119) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبدربہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
و أبو عياض مجهول (تقريب التهذيب: 8293)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ، عَنْ تَشَهُّدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوَى، وَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ يَجْعَلَنَا مِمَّنْ يُطِيعُهُ وَيُطِيعُ رَسُولَهُ وَيَتَّبِعُ رِضْوَانَهُ وَيَجْتَنِبُ سَخَطَهُ، فَإِنَّمَا نَحْنُ بِهِ وَلَهُ.
یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب (زہری) سے جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی اور اس میں اتنا اضافہ کیا: «ومن يعصهما فقد غوى ‏"‏ ‏.‏ ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه فإنما نحن به وله» جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہو گیا، ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا رب ہے یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنے والوں اور اس کی رضا مندی ڈھونڈھنے والوں اور اس کے غصے سے پرہیز کرنے والوں میں سے بنا لے کیونکہ ہم اسی کی وجہ سے ہیں اور اسی کے لیے ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1098]
جناب یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب رحمہ اللہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کے متعلق پوچھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے روز پڑھا کرتے تھے۔ تو اسی (مذکورہ حدیث) کی مانند بیان کیا اور کہا: «وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَقَدْ غَوٰی» جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ بہت بڑے شر میں جا پڑا۔ ہم اپنے اللہ سے، جو ہمارا رب ہے، سوال کرتے ہیں کہ ہمیں ان لوگوں میں سے بنائے جو اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے رسول کی، اس کی رضا مندی کے تابع ہوتے اور اس کی ناراضی سے بچتے ہیں۔ بلاشبہ ہم اسی کے ساتھ ہیں اور اسی کے لیے ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19407، 19354) (ضعیف) (یہ حدیث مرسل ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1099
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ خَطِيبًا خَطَبَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَالَ" قُمْ أَوِ اذْهَبْ بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک خطیب نے خطبہ دیا اور یوں کہا: «من يطع الله ورسوله ومن يعصهما» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہاں سے اٹھ جاؤ یا چلے جاؤ تم برے خطیب ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1099]
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک خطیب نے خطبہ دیا اور اس نے کہا «مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا» جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ، یا فرمایا: چلے جاؤ، تم بہت برے خطیب ہو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجمعة 13 (870)، سنن النسائی/النکاح 40 (3281)، (تحفة الأشراف: 9850)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/256، 379) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «بئس الخطيب أنت» اس لئے فرمایا کہ «ومن يعصهما» (جو ان دونوں کی نافرمانی کرے) کے الفاظ آپ کو ناگوار لگے، کیوں کہ خطیب نے ایک ہی ضمیر میں اللہ اور رسول دونوں کو یکجا کر دیا، جس سے دونوں کے درمیان برابری ظاہر ہو رہی تھی، خطیب کو چاہئے تھا کہ وہ اللہ اور رسول دونوں کو الگ الگ ذکر کرے بالخصوص خطبہ میں ایسا نہیں کرنا چاہئے، کیوں کہ خطبہ تفصیل اور وضاحت کا مقام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (870)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1100
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ". قَالَتْ:" وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.
(ام ہشام) بنت حارث (حارثہ بن نعمان) بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے سورۃ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان (مبارک) سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے، آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1100]
حارث بن نعمان کی صاحبزادی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۃ ﴿ق﴾ [سورة ق] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے سن کر ہی یاد کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر خطبہ جمعہ میں پڑھا کرتے تھے، بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا تنور ایک ہی تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ روح بن عبادہ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے اس خاتون کا نسب یوں ذکر کیا بنت حارثہ بن نعمان جبکہ ابن اسحاق نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان کہا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجمعة 13 (872)، سنن النسائی/الجمعة 28 (1412)، (تحفة الأشراف: 18363)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 432، 436، 463) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (873)
وانظر الحديث الآتي (1102)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ:" كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْدًا وَخُطْبَتُهُ قَصْدًا يَقْرَأُ آيَاتٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَيُذَكِّرُ النَّاسَ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز درمیانی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی درمیانی ہوتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی چند آیتیں پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1101]
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ درمیانہ درمیانہ ہوتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کی چند آیات تلاوت فرماتے اور لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الجمعة 35 (1419)، صلاة العیدین 25 (1585)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 85 (1106)، (تحفة الأشراف: 2163)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/86، 88، 93، 98، 102، 106، 107) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
ورواه مسلم (866) نحوه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1102
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُخْتِهَا، قَالَتْ: مَا أَخَذْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَؤُهَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.
عبدالرحمٰن کی بہن عمرۃ بنت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا وہ کہتی ہیں کہ میں نے سورۃ ق کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کیا آپ ہر جمعہ میں اسے پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب، اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے عمرہ سے، عمرہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان عنہا سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1102]
عمرہ اپنی بہن سے روایت کرتی ہیں، ان کا بیان ہے کہ میں نے ﴿ق﴾ [سورة ق] ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک ہی سے (سن کر) یاد کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر جمعہ (کے خطبہ میں) پڑھا کرتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن ایوب اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 1100، (تحفة الأشراف: 18363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (872)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1103
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُخْتٍ لِعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَتْ أَكْبَرَ مِنْهَا، بِمَعْنَاهُ.
عمرہ بنت عبدالرحمٰن اپنی بہن ام ہشام رضی اللہ عنہا سے جو عمر میں ان سے بڑی تھیں، اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1103]
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ، عمرہ رحمہا اللہ سے، وہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن رحمہا اللہ کی بہن سے، جو ان سے بڑی تھیں، اس کے ہم معنی روایت ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 1100، (تحفة الأشراف: 18363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (872)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں