سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
236. باب الاحتباء والإمام يخطب
باب: امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگ گوٹ مار کر نہ بیٹھیں۔
حدیث نمبر: 1111
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ:"شَهِدْتُ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَجَمَّعَ بِنَا فَنَظَرْتُ، فَإِذَا جُلُّ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُهُمْ مُحْتَبِينَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَحْتَبِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَشُرَيْحٌ، وَصَعْصَعَةُ بْنُ صُوحَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَمَكْحُولٌ،وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، وَنُعَيْمُ بْنُ سَلَامَةَ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِهَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَبْلُغْنِي أَنَّ أَحَدًا كَرِهَهَا إِلَّا عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ.
یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی تو میں نے دیکھا کہ مسجد میں زیادہ تر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں اور میں نے انہیں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھے دیکھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گوٹ مار کر بیٹھتے تھے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ، شریح، صعصہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میری معلومات کی حد تک عبادہ بن نسی کے علاوہ کسی اور نے اس کو مکروہ نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1111]
جناب یعلیٰ بن شداد بن اوس کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس میں حاضر تھا۔ انہوں نے ہمیں جمعہ پڑھایا۔ میں نے دیکھا کہ مسجد میں حاضرین کی اکثریت اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔ میں نے انہیں دیکھا کہ امام خطبہ دے رہا تھا اور وہ احتباء کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اثنائے خطبہ میں احتباء کی حالت میں بیٹھا کرتے تھے۔“ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور شریح، صعصعہ بن صوحان، سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسماعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ ”اس میں کوئی حرج نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”جناب عبادہ بن نسی رحمہ اللہ (تابعی) کے علاوہ مجھے کسی کے متعلق معلوم نہیں ہوا کہ انہوں نے اس طرح بیٹھنے کو مکروہ کہا ہو۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1111]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (ضعیف)» (اس کے راوی سلیمان ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان بن عبد اللّٰه بن الزبرقان : لين الحديث (تقريب التهذيب: 2578)
وأثر ابن عمر أخرجه البيهقي (35/3) بإسناد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
إسناده ضعيف
سليمان بن عبد اللّٰه بن الزبرقان : لين الحديث (تقريب التهذيب: 2578)
وأثر ابن عمر أخرجه البيهقي (35/3) بإسناد ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 50
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥يعلى بن شداد الأنصاري، أبو ثابت | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سليمان بن عبد الله بن الزبرقان سليمان بن عبد الله بن الزبرقان ← يعلى بن شداد الأنصاري | مقبول | |
👤←👥خالد بن حيان الرقي، أبو يزيد خالد بن حيان الرقي ← سليمان بن عبد الله بن الزبرقان | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥داود بن رشيد الهاشمي، أبو الفضل داود بن رشيد الهاشمي ← خالد بن حيان الرقي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1111
| شهدت مع معاوية بيت المقدس فجمع بنا فنظرت فإذا جل من في المسجد أصحاب النبي فرأيتهم محتبين والإمام يخطب |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1111 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1111
1111۔ اردو حاشیہ:
➊ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں توسع ہے بالخصوص جبکہ محظورات (ممنوع اور ناجائز امور) میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔ علاوہ ازیں یہ حدیث بھی ضعیف ہے بہرحال بہتر یہی ہے کہ «احتباه» اور «حبوه» جیسی نشست سے بچا جائے۔
➋ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خطبے کے دوران میں اکثریت کا اصحاب رسول ہونا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقبول اور پسندیدہ ہونے کی علامت ہے۔
➊ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلے میں توسع ہے بالخصوص جبکہ محظورات (ممنوع اور ناجائز امور) میں پڑنے کا اندیشہ نہ ہو۔ علاوہ ازیں یہ حدیث بھی ضعیف ہے بہرحال بہتر یہی ہے کہ «احتباه» اور «حبوه» جیسی نشست سے بچا جائے۔
➋ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خطبے کے دوران میں اکثریت کا اصحاب رسول ہونا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقبول اور پسندیدہ ہونے کی علامت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1111]
Sunan Abi Dawud Hadith 1111 in Urdu
سليمان بن عبد الله بن الزبرقان ← يعلى بن شداد الأنصاري