الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
245. باب الرجل يأتم بالإمام وبينهما جدار
باب: آدمی امام کی اقتداء کر رہا ہو اور دونوں کے درمیان دیوار حائل ہو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1126
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهِ وَالنَّاسُ يَأْتَمُّونَ بِهِ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَةِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے اندر نماز پڑھی اور لوگ حجرے کے پیچھے سے آپ کی اقتداء کر رہے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 80 (729)، (تحفة الأشراف: 17937)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/30) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (729)
مشكوة المصابيح (1114)
مشكوة المصابيح (1114)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية | ثقة ثبت | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← يحيى بن سعيد الأنصاري | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1126
| صلى رسول الله في حجرته والناس يأتمون به من وراء الحجرة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1126 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1126
1126۔ اردو حاشیہ:
جب نمازیوں کی صفیں متصل ہوں اور صفوں کے درمیان کوئی پردہ یا دیوار حائل ہو، خواہ امام اور مقتدیوں کے درمیان ہی یہ صورت ہو اور انہیں امام کے احوال کی بخوبی اطلاع ہو تو اقتداء جائز ہے۔ جیسے آج کل مساجد کئی کئی منزلہ بن گئی ہیں یا عورتیں پردے کے پیچھے ہوتی ہیں۔ مگر ریڈیو ٹی وی کے ذریعے سے اقتداء جائز نہیں۔ کیونکہ صفیں متصل نہیں ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں ٹی وی کے ذریعے سے ان عبادات کو ٹیلی کاسٹ (نشر) کرنا ہی شرعاً سخت محل نظر ہے چہ جایئکہ ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہونے والے شخص کو امام بنا لیا جائے۔؟
جب نمازیوں کی صفیں متصل ہوں اور صفوں کے درمیان کوئی پردہ یا دیوار حائل ہو، خواہ امام اور مقتدیوں کے درمیان ہی یہ صورت ہو اور انہیں امام کے احوال کی بخوبی اطلاع ہو تو اقتداء جائز ہے۔ جیسے آج کل مساجد کئی کئی منزلہ بن گئی ہیں یا عورتیں پردے کے پیچھے ہوتی ہیں۔ مگر ریڈیو ٹی وی کے ذریعے سے اقتداء جائز نہیں۔ کیونکہ صفیں متصل نہیں ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں ٹی وی کے ذریعے سے ان عبادات کو ٹیلی کاسٹ (نشر) کرنا ہی شرعاً سخت محل نظر ہے چہ جایئکہ ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہونے والے شخص کو امام بنا لیا جائے۔؟
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1126]
عمرة بنت عبد الرحمن الأنصارية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق