سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب متى يتم المسافر
باب: مسافر پوری نماز کب پڑھے؟
حدیث نمبر: 1234
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ الْمُثَنَّى وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: ابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" كَانَ إِذَا سَافَرَ سَارَ بَعْدَ مَا تَغْرُبُ الشَّمْسُ حَتَّى تَكَادَ أَنْ تُظْلِمَ، ثُمَّ يَنْزِلُ فَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْعُوا بِعَشَائِهِ فَيَتَعَشَّى، ثُمَّ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْتَحِلُ، وَيَقُولُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ". قَالَ عُثْمَانُ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، سَمِعْت أَبَا دَاوُد، يَقُولُ: وَرَوَى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَنَسًا" كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ، وَيَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ"، وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلُهُ.
عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہو جاتا، پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے۔ پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے۔ پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ عثمان کی روایت میں «أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» کے بجائے «عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي» ہے۔ (ابوعلی لولؤی کہتے ہیں) میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ (بن انس بن مالک) سے روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ جب شفق غائب ہو جاتی تو دونوں (مغرب اور عشاء) کو جمع کرتے اور کہتے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1234]
سیدنا عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج غروب ہونے کے بعد چلتے، حتیٰ کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہو جاتا۔ پھر (سواری سے) اترتے اور مغرب کی نماز پڑھتے، کھانا طلب کر کے عشائیہ کرتے، پھر عشاء کی نماز پڑھتے، پھر کوچ کرتے، اور بیان کرتے تھے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“ عثمان (بن ابی شیبہ) نے عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی سے بصیغہ «عن» روایت کیا ہے (جبکہ ابن مثنی نے «أخبرني» کہا ہے)۔ (ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں کہ) میں نے امام ابوداؤد رحمہ اللہ کو سنا، وہ کہتے تھے کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبیداللہ یعنی ابن انس بن مالک سے نقل کیا کہ ”سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرتے اور غروب شفق کے بعد پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“ زہری کی روایت «عن أنس، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم » اسی کے مثل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، سنن النسائی/المواقیت 44 (592)، (تحفة الأشراف: 10250) (صحیح لغیرہ)» (اس کے راوی عبداللہ بن محمد بن عمر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، جن میں سے ایک انس کی اگلی حدیث بھی ہے) «وحدیث أنس أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 14 (1111، 1112) (مقتصرا علی الظہر والعصر فقط)، صحیح مسلم/المسافرین 5 (704)، سنن النسائی/المواقیت 42 (595)، (مقتصرا علی الشق الأول مثل البخاری)، (تحفة الأشراف: 1515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/247، 265) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1234
| إذا سافر سار بعد ما تغرب الشمس حتى تكاد أن تظلم ثم ينزل فيصلي المغرب ثم يدعوا بعشائه فيتعشى ثم يصلي العشاء ثم يرتحل ويقول هكذا كان رسول الله يصنع |
Sunan Abi Dawud Hadith 1234 in Urdu
عمر بن علي القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي