یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في تخفيفهما
باب: فجر کی سنتوں کو ہلکی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلَالٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ فَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ:" إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ:" لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا".
عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا“، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1257]
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی (جماعت کا وقت ہو جانے کی) اطلاع دینے کے لیے آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو کسی بات میں مشغول کر لیا، حتیٰ کہ صبح خوب سفید ہو گئی۔ پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور کئی بار خبر دی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے، بالآخر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی۔ تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو باتوں میں لگا لیا تھا اور وہ ان سے کچھ پوچھ رہی تھیں، حتیٰ کہ خوب صبح ہو گئی اور آپ نے بھی تشریف لانے میں تاخیر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں فجر کی رکعتیں پڑھ رہا تھا۔“ کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے بہت صبح کر دی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اس سے بھی زیادہ صبح کرتا تو میں ان سنتوں کو پڑھتا اور عمدگی اور خوبصورتی سے پڑھتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/14) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1257
| لو أصبحت أكثر مما أصبحت لركعتهما وأحسنتهما وأجملتهما |
Sunan Abi Dawud Hadith 1257 in Urdu
عبيد الله بن زيادة البكري ← بلال بن رباح الحبشي