سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب الصَّلاَةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
باب: مغرب سے پہلے سنت پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1284
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ هُوَ شُعَيْبٌ يَعْنِي وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ.
طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ (ابوشعیب کے بجائے) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہو گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1284]
جناب طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: ”میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسے پڑھتا ہو۔“ اور عصر کے بعد دو رکعتوں کی رخصت دی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین کو سنا، وہ کہتے تھے کہ ”راویِ حدیث ابوشعیب دراصل شعیب ہے، شعبہ کو اس کے نام میں وہم ہوا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب التطوع /حدیث: 1284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7104) (ضعیف)» (صحیحین میں وارد پچھلی حدیث کا معارضہ شعیب یا ابو شعیب جیسے مختلف فیہ راوی کی حدیث سے نہیں کیا جا سکتا)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1284
| الركعتين قبل المغرب فقال ما رأيت أحدا على عهد رسول الله يصليهما ورخص في الركعتين بعد العصر |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1284 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1284
1284۔ اردو حاشیہ:
اس حدیث میں بیان کردہ بشرط صحت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نفی کو ان کی لاعلمی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ صحیح احادیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مغرب کی اذان کے بعد دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے۔
اس حدیث میں بیان کردہ بشرط صحت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی نفی کو ان کی لاعلمی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ صحیح احادیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مغرب کی اذان کے بعد دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1284]
Sunan Abi Dawud Hadith 1284 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن عمر العدوي