🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب الرخصة في ذلك
باب: قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کے وقت قبلہ رخ ہونے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا، (لیکن) میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (قضائے حاجت کی حالت میں) قبلہ رو دیکھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 13]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 7 (9)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 18 (325)، (تحفة الأشراف: 2574) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: گویا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ وہم تھا کہ ممانعت عام تھی، صحراء اور آباد علاقہ دونوں کو شامل تھی، اسی وجہ سے آپ نے اسے نسخ پر محمول کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل سے یہ نہی (ممانعت) منسوخ ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (3/360)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥أبان بن صالح القرشي، أبو بكر
Newأبان بن صالح القرشي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← أبان بن صالح القرشي
صدوق مدلس
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← وهب بن جرير الأزدي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
13
نهى نبي الله أن نستقبل القبلة ببول رأيته قبل أن يقبض بعام يستقبلها
جامع الترمذي
9
نهى النبي أن نستقبل القبلة ببول رأيته قبل أن يقبض بعام يستقبلها
صحيح ابن خزيمة
58
نهانا رسول الله أن نستقبل القبلة ببول فرأيته قبل أن يقبض بعام يستقبلها
سنن ابن ماجه
325
نهى رسول الله أن نستقبل القبلة يبول فرأيته قبل أن يقبض بعام يستقبلها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 13 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 13
فوائد و مسائل
ان احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گھروں میں تعمیر شدہ بیت الخلاؤں میں بیت اللہ کی طرف پشت کرنا جائز ہے جبکہ اس مسئلہ کی جملہ احادیث سے راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے احتراز کیا جائے جیسا کہ سنن ابوداود حدیث نمبر [11] کے فوائد و مسائل میں گزرا ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: [الروضة الندية شرح الدررالبهية، باب ترك الاستقبال واستدبار القبلة]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 13]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث325
صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کرنے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر آپ کے انتقال سے ایک سال پہلے میں نے دیکھا قضائے حاجت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ قبلہ کی طرف ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 325]
اردو حاشہ:
 حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس ممانعت کو منسوخ سمجھتےہیں لیکن اگر نہی کو کھلی جگہ کے لیے خاص قرار دیاجائے یا اجتناب کو افضل اور منہ کرنے کو جائز سمجھا جائے تو اسے منسوخ قرار دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
واللہ أعلم
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 325]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 9
قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنے کی رخصت​۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں، پھر میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ کو قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 9]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں محمد بن اسحاق صدوق ہیں،
لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 9]