🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب في رفع الصوت بالقراءة في صلاة الليل
باب: تہجد میں بلند آواز سے قرآت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1333
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/فضائل القرآن 20 (2919)، سنن النسائی/قیام اللیل 22 (1662)، والزکاة 68 (2562)، (تحفة الأشراف: 9949)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/151، 158،201) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2202)
إسماعيل بن عياش تابعه معاوية بن صالح عند النسائي (2562 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عقبة بن عامر الجهني، أبو الأسود، أبو أسيد، أبو سعاد، أبو حماد، أبو عبس، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥كثير بن مرة الحضرمي، أبو شجرة، أبو القاسم
Newكثير بن مرة الحضرمي ← عقبة بن عامر الجهني
ثقة
👤←👥خالد بن معدان الكلاعي، أبو عبد الله
Newخالد بن معدان الكلاعي ← كثير بن مرة الحضرمي
ثقة
👤←👥بحير بن سعد السحولي، أبو خالد
Newبحير بن سعد السحولي ← خالد بن معدان الكلاعي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن عياش العنسي، أبو عتبة
Newإسماعيل بن عياش العنسي ← بحير بن سعد السحولي
صدوق في روايته عن أهل بلده وخلط في غيرهم
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← إسماعيل بن عياش العنسي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2562
الجاهر بالقرآن كالجاهر بالصدقة والمسر بالقرآن كالمسر بالصدقة
جامع الترمذي
2919
الجاهر بالقرآن كالجاهر بالصدقة والمسر بالقرآن كالمسر بالصدقة
سنن أبي داود
1333
الجاهر بالقرآن كالجاهر بالصدقة والمسر بالقرآن كالمسر بالصدقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1333 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1333
1333. اردو حاشیہ: فائدہ: یعنی انسان کی نیت کے مطابق اس کو اجر ملتا ہے۔ اگر قراءت میں آواز بلند کرنےسے دوسروں کو ترغیب دینا مقصود ہو تو یقیناً مباح اور مطلوب و ماجور ہے، ورنہ نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1333]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2562
چپکے سے صدقہ دینے والے کا بیان۔
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے، اور دھیرے سے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ دینے والے کی طرح ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2562]
اردو حاشہ:
قرآن مجید میں چھپا کر صدقہ کرنے کو افضل کہا گیا ہے۔ اگرچہ علانیہ صدقہ کرنے والے کو بھی اچھا کہا گیا ہے کیونکہ دونوں میں الگ الگ فوائد ہیں۔ چونکہ علانیہ میں ریا کاری کا خطرہ قوی ہے، لہٰذا وہ افضل نہیں۔ لیکن بعض اوقات علانیہ صدقہ بھی افضل ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے دوسروں کو ترغیب و تشویش دینا مقصود ہو۔ بعض اہل علم نے یوں تطبیق دی ہے کہ فرض صدقہ علانیہ کیا جائے کیونکہ وہ اتہام والزام سے بچ جائے گا۔ دوسروں کو رغبت بھی ہوگی۔ اس میں ریا کاری کا امکان بھی کم ہے کیونکہ فرض کام تو بہرحال کرنا ہی پڑتا ہے، البتہ نفل صدقہ چھپا کر ہی دیا جائے کیونکہ یہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے۔ اسے پوشیدہ ہی رہنا چاہیے جبکہ فرض تو پوشیدہ نہیں رہ سکتا، جیسے فرض نماز سب کے سامنے (باجماعت) پڑھنا فرض ہے جبکہ نفل نماز گھر ہی میں افضل ہے تا کہ ریا کا شائبہ نہ رہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2562]

Sunan Abi Dawud Hadith 1333 in Urdu