🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب في صلاة الليل
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1354
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ،عَنْ حُصَيْنٍ، نَحْوَهُ، قَالَ:" وَأَعْظِمْ لِي نُورًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو خَالِدٍ الدَّالَانِيُّ: عَنْ حَبِيبٍ فِي هَذَا، وَكَذَلِكَ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: عَنْ أَبِي رِشْدِينَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
اس طریق سے بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں «وأعظم لي نورا» کا جملہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں «عن حبيبٍ» کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے «عن أبي رشدين عن ابن عباس» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: 58، (تحفة الأشراف: 6287) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (58) ورواه مسلم (763)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيلثقة متقن
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي
ثقة ثبت
👤←👥وهبان بن بقية الواسطي، أبو محمد
Newوهبان بن بقية الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1354 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1354
1354. اردو حاشیہ: فوائد و مسائل:
➊ صبح بیدار ہونے پر مسواک کرنا مسنون و مستحب عمل ہے۔
➋ رات کو جاگنے کے اوراد میں سے ایک اہم ورد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت بھی ہے۔
➌ تہجد کی نماز کو مختلف حصوں میں بانٹ کر پڑھنا بھی جائز ہے۔
➍ فجر کی نماز کے لیے جاتےہوئے مسنون دعا [اللهم اجعل في قلبي نورا..... الخ]
ہے۔ اور اس کا مفہوم یا تو ظاہری اور حقیقی نور کے حصول کی دعا ہے، جس سے قیامت کے اندھیروں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اور آپ کے متبعین روشنی حاصل کرں گے یاعلم وہدایت اور اعمال طاعت کی توفیق اور ثبات مراد ہے یا یہ دونوں ہی مراد ہیں۔
➎ حضرت ابن عباس کا تتبع سیرت کا شوق قابل تعجب ہے اور ان کےرتبۂ علیا کی دلیل بھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1354]