🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1334
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ عَشْرَ رَكَعَاتٍ، وَيُوتِرُ بِسَجْدَةٍ، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ الْفَجْرِ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دس رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعت فجر کی سنت پڑھتے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوتیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1334]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں دس رکعتیں پڑھا کرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے، اور (بعد ازاں) دو رکعتیں فجر کی پڑھتے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعات ہوئیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 10 (1140)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (738) سنن النسائی/قیام اللیل 33 (1697)، (تحفة الأشراف: 17448)، مسند احمد (4/151، 158،201) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1140) صحيح مسلم (738)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1335
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْهَا اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، جب آپ اس سے فارغ ہو جاتے تو داہنی کروٹ لیٹتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1335]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعات پڑھا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک رکعت وتر ہوتی۔ ان سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 17(736)، سنن الترمذی/الصلاة 213 (440، 441)، (تحفة الأشراف: 16593)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر والتھجد 3 (1123)، سنن النسائی/قیام اللیل 35 (1697)، 44 (1727)، سنن ابن ماجہ/ إقامة الصلاة 181 (1358)،حم (6/ 34، 35، 83، 143، 167، 168، 182، 215، 228)، سنن الدارمی/الصلاة 165(1514) (صحیح)» ‏‏‏‏ ( «اضطجاع» یعنی دائیں کروٹ پر صلاة وتر سے فارغ ہو کر لیٹنے کا ٹکڑا شاذ ہے)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (736)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1336
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَنَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، وَقَالَ نَصْرٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے، اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن (بلانے کے لے) آتا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1336]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد سے فجر طلوع ہونے کے درمیان میں گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ہر دو رکعتوں پر سلام کہتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سجدے میں اتنی دیر رہتے کہ جس میں تم پچاس آیتیں پڑھ لو۔ اور مؤذن جب فجر کی اذان کہتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہلکی ہلکی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے حتیٰ کہ مؤذن آ جاتا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/ الأذان 41 (686)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 181 (1358)، (تحفة الأشراف: 16515، 16618)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 15 (626)، والوتر 994)، والتہجد 3 (1123)، و 23 (1160)، والدعوات 5 (6310)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن ابن ماجہ/اقامة الصلاة 126 (1198)، مسند احمد (6/34، 74، 83، 143، 167، 215، 248، 254)، سنن الدارمی/الصلاة 147 (1486)، 165 (1514، 1515) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الزھري صرح بالسماع عند أبي يعلي الموصلي (4787 وسنده صحيح / معاذ علي زئي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ:" وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَسْجُدُ سَجْدَةً قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَتَبَيَّنَ لَهُ الْفَجْرُ، وَسَاقَ مَعْنَاهُ" قَالَ: وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى بَعْضٍ.
اس طریق سے بھی ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھتے اور اتنی دیر تک سجدہ کرتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں (رکوع سے) سر اٹھانے سے پہلے پڑھ لے، پھر جب مؤذن فجر کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا اور فجر ظاہر ہو جاتی، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی البتہ بعض کی روایتوں میں بعض پر کچھ اضافہ ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1337]
ابن شہاب نے اپنی سابقہ سند سے اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے اور سجدے میں اتنی دیر رہتے کہ تم میں سے ایک شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، اور مؤذن جب اذان فجر سے فارغ ہوتا اور فجر واضح طور پر طلوع ہو چکی ہوتی۔ اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، البتہ رواۃ ایک دوسرے سے کچھ اضافے کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 17 (736)، سنن النسائی/الأذان 41 (686)، (تحفة الأشراف: 16573، 16704، 16618) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (736)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1338
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوتِرُ مِنْهَا بِخَمْسٍ لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْخَمْسِ حَتَّى يَجْلِسَ فِي الْآخِرَةِ فَيُسَلِّمُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ نَحْوَهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے، ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1338]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں تیرہ رکعت پڑھتے، ان میں سے پانچ رکعت وتر ہوتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچوں رکعات میں کسی میں بھی (تشہد) نہ بیٹھتے، بلکہ آخر ہی میں بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ابن نمیر نے ہشام سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 17294)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/لمسافرین 17 (738)، سنن النسائی/قیام اللیل 39 (1718)، مسند احمد (6/ 123، 161، 205) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (737)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1339
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ يُصَلِّي إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں اور پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1339]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات پڑھا کرتے، پھر جب صبح کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 27 (1170)، (تحفة الأشراف: 17150)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل 4 (1605)، مسند احمد (6/ 177) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1170)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1340
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً كَانَ يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي، قَالَ مُسْلِمٌ: بَعْدَ الْوِتْرِ، ثُمَّ اتَّفَقَا رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ، وَيُصَلِّي بَيْنَ أَذَانِ الْفَجْرِ وَالْإِقَامَةِ رَكْعَتَيْنِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے (پہلے) آٹھ رکعتیں پڑھتے (پھر) ایک رکعت سے وتر کرتے، مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «بعد الوتر» وتر کے بعد کے الفاظ بھی ہیں (پھر موسیٰ اور مسلم ابن ابراہیم دونوں متفق ہیں کہ) دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1340]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات پڑھا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (پہلے) آٹھ رکعات پڑھتے، پھر ایک رکعت وتر پڑھتے۔ اس کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوتا کہ رکوع کریں تو کھڑے ہو کر رکوع کرتے۔ پھر اذان فجر اور اقامت کے مابین دو رکعتیں پڑھتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، وانظر ایضا رقم: (1338، 1339)، (تحفة الأشراف: 17781) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (738)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1341
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ؟ فَقَالَتْ:" مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا". قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۱؎، آپ چار رکعتیں پڑھتے، ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے بھی حسن اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ۲؎۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1341]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے، مت پوچھو کہ وہ کتنی عمدہ اور کتنی طویل ہوتی تھیں! پھر چار رکعتیں پڑھتے، مت پوچھو کہ وہ کتنی عمدہ اور کتنی طویل ہوتی تھیں! (یعنی انتہائی ٹھہراؤ اور اطمینان سے پڑھتے اور قراءت ازحد طویل ہوتی تھی) پھر تین رکعات پڑھتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وتروں سے پہلے سو جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التھجد 16(1147)، والتراویح 1 (2013)، والمناقب 24 (3569)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (738)، سنن الترمذی/الصلاة 209 (439)، موطا امام مالک/صلاٰة اللیل 2(9)، مسند احمد (6/36، 73، 104)، (تحفة الأشراف: 17719) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: آٹھ رکعتیں تہجد یا تراویح کی اور تین وتر کی۔
۲؎: یعنی میرا دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے، اس وجہ سے سونے سے مجھے کوئی ضرر نہیں پہنچتا، میرا وضو اس سے نہیں ٹوٹتا، یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1147) صحيح مسلم (737)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1342
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ لِأَبِيعَ عَقَارًا كَانَ لِي بِهَا فَأَشْتَرِيَ بِهِ السِّلَاحَ وَأَغْزُو، فَلَقِيتُ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: قَدْ أَرَادَ نَفَرٌ مِنَّا سِتَّةٌ أَنْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَدُلُّكَ عَلَى أَعْلَمِ النَّاسِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَتَيْتُهَا، فَاسْتَتْبَعْتُ حَكِيمَ بْنَ أَفْلَحَ، فَأَبَى، فَنَاشَدْتُهُ، فَانْطَلَقَ مَعِي، فَاسْتَأْذَنَّا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: حَكِيمُ بْنُ أَفْلَحَ، قَالَتْ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَتْ: هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ الَّذِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: نِعْمَ الْمَرْءُ كَانَ عَامِرٌ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، حَدِّثِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثِينِي عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ، قَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: فَإِنَّ أَوَّلَ هَذِهِ السُّورَةِ نَزَلَتْ فَقَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَحُبِسَ خَاتِمَتُهَا فِي السَّمَاءِ اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ نَزَلَ آخِرُهَا فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ، قَالَ: قُلْتُ: حَدِّثِينِي عَنْ وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ يُوتِرُ بِثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَةً أُخْرَى لَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ وَالتَّاسِعَةِ، وَلَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي التَّاسِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَجْلِسْ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ وَالسَّابِعَةِ، وَلَمْ يُسَلِّمْ إِلَّا فِي السَّابِعَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَتِلْكَ هِيَ تِسْعُ رَكَعَاتٍ يَا بُنَيَّ، وَلَمْ يَقُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً يُتِمُّهَا إِلَى الصَّبَاحِ، وَلَمْ يَقْرَأْ الْقُرْآنَ فِي لَيْلَةٍ قَطُّ وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا يُتِمُّهُ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا، وَكَانَ إِذَا غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ مِنَ اللَّيْلِ بِنَوْمٍ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً" قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: هَذَا وَاللَّهِ هُوَ الْحَدِيثُ، وَلَوْ كُنْتُ أُكَلِّمُهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّى أُشَافِهَهَا بِهِ مُشَافَهَةً، قَالَ: قُلْتُ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ لَا تُكَلِّمُهَا مَا حَدَّثْتُكَ.
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر میں مدینہ آیا تاکہ اپنی ایک زمین بیچ دوں اور اس سے ہتھیار خرید لوں اور جہاد کروں، تو میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ سے ہوئی، ان لوگوں نے کہا: ہم میں سے چھ افراد نے ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے، تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک ایسی ذات کی جانب تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی ہے، تم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں ان کے پاس چلا اور حکیم بن افلح سے بھی ساتھ چلنے کو کہا، انہوں نے انکار کیا تو میں نے ان کو قسم دلائی، چنانچہ وہ میرے ساتھ ہو لیے (پھر ہم دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے)، ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے پوچھا: کون ہو؟ کہا: حکیم بن افلح، انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: سعد بن ہشام، پوچھا: عامر کے بیٹے ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، وہ کہنے لگیں: عامر کیا ہی اچھے آدمی تھے، میں نے عرض کیا: ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئے، انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا، میں نے عرض کیا: آپ کی رات کی نماز (تہجد) کے بارے میں کچھ بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا: جب اس سورۃ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں ورم آ گیا اور سورۃ کی آخری آیات آسمان میں بارہ ماہ تک رکی رہیں پھر نازل ہوئیں تو رات کی نماز نفل ہو گئی جب کہ وہ پہلے فرض تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور آٹھویں رکعت کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے، اس طرح آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی میں بیٹھتے اور آپ نویں رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، اس طرح یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، میرے بیٹے! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتوں سے وتر کرنے لگے، اب صرف چھٹی اور ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور ساتویں میں سلام پھیرتے پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس طرح یہ کل نو رکعتیں ہوتیں، میرے بیٹے! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی رات کو (لگاتار) صبح تک قیام ۱؎ نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی ایک رات میں قرآن ختم کیا، اور نہ ہی رمضان کے علاوہ کبھی مہینہ بھر مکمل روزے رکھے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز پڑھتے تو اس پر مداومت فرماتے، اور جب رات کو آنکھوں میں نیند غالب آ جاتی تو دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حدیث یہی ہے، اگر میں ان سے بات کرتا تو میں ان کے پاس جا کر خود ان کے ہی منہ سے بالمشافہہ یہ حدیث سنتا، میں نے ان سے کہا: اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ آپ ان سے بات نہیں کرتے ہیں تو میں آپ سے یہ حدیث بیان ہی نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1342]
سعد بن ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور مدینے چلا آیا تاکہ یہاں کی اپنی جائیداد فروخت کر کے اسلحہ وغیرہ خرید لوں اور جہاد کے لیے نکل جاؤں۔ چنانچہ میں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملا تو انہوں نے بتایا کہ ہم میں سے چھ آدمیوں نے ایسے ہی کرنا چاہا تھا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرما دیا تھا اور فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔ چنانچہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، میں نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتروں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں تمہیں وہ شخصیت بتاتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتروں کے متعلق سب سے زیادہ باخبر ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے جاؤ۔ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا اور حکیم بن افلح رحمہ اللہ کو اپنے ساتھ چلنے کو کہا، انہوں نے انکار کیا۔ میں نے ان کو قسم دی تو وہ میرے ساتھ چل پڑے۔ ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت چاہی تو انہوں نے پوچھا: کون ہو؟ کہا: حکیم بن افلح۔ پوچھا: تمہارے ساتھ اور کون ہے؟ کہا: سعد بن ہشام۔ کہنے لگیں: وہی ہشام بن عامر جو احد کے روز قتل ہو گئے تھے؟ میں نے کہا: ہاں۔ وہ کہنے لگیں: عامر بہت بھلے انسان تھے۔ میں نے کہا: اے ام المؤمنین! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق (اخلاق و عادات) کے متعلق ارشاد فرمائیں (بتائیں)۔ کہنے لگیں: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق بس قرآن ہی تھا۔ میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام اللیل کے متعلق ارشاد فرمائیں (بتائیں)۔ کہنے لگیں: کیا تم سورۃ ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ﴾ [سورة المزمل: 1] نہیں پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے کہا: اس سورت کا ابتدائی حصہ نازل ہوا تو اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کرنا شروع کیا، حتیٰ کہ ان کے پاؤں سوج جاتے۔ اور اس سورت کا آخری حصہ بارہ مہینے آسمان پر روکے رکھا گیا (یعنی نازل نہیں ہوا)۔ پھر کہیں اس کا آخری حصہ نازل ہوا تو رات کا قیام نفل قرار پایا جبکہ پہلے فرض تھا۔ میں نے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے متعلق فرمائیں (بتائیں)۔ وہ کہنے لگیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعات پڑھتے، ان میں آپ صرف آٹھویں رکعت پر تشہد بیٹھتے، پھر اٹھتے اور ایک اور رکعت پڑھتے۔ آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی پر بیٹھتے اور نویں پر سلام پھیرتے۔ اس کے بعد آپ دو رکعتیں پڑھتے، بیٹھے ہوئے۔ بیٹے! یہ گیارہ ہوئیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی عمر کے ہو گئے اور کچھ فربہ بھی، تو سات رکعات وتر پڑھنے لگے۔ آپ چھٹی اور ساتویں رکعت پر بیٹھتے اور ساتویں ہی پر سلام پھیرتے۔ پھر دو رکعتیں پڑھتے جبکہ آپ بیٹھے ہوئے ہوتے۔ بیٹے! یہ اس طرح نو رکعات ہوتیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ساری رات صبح تک قیام نہیں فرمایا۔ اور آپ نے کبھی بھی ایک رات میں قرآن ختم نہیں کیا۔ اور رمضان کے علاوہ کسی بھی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے۔ اور جب کوئی نماز (یعنی نفل) شروع کر لیتے تو اس پر ہمیشگی فرماتے۔ اگر کبھی کسی رات نیند کا غلبہ ہو جاتا تو دن میں بارہ رکعات پڑھتے۔ (سعد رحمہ اللہ کہتے ہیں) پھر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں یہ سب بتایا تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! یہی حدیث ہے (جو میں چاہتا تھا) اگر میں ان سے بولتا ہوتا تو میں خود ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور بالمشافہ سنتا۔ سعد رحمہ اللہ نے کہا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ ان سے نہیں بولتے ہیں تو میں آپ کو یہ حدیث نہ سناتا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 18 (746)، سنن النسائی/ قیام اللیل 2 (1602)، 17 (1642)، 18 (1652)، 42 (1721)، 43 (1725)، سنن الترمذی/الصلاة 216 (445مختصراً)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 123 (1191)، (تحفة الأشراف: 16104)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/53، 94، 109، 163، 168، 238، 258) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی رات بھر عبادت نہیں کی بلکہ درمیان میں آرام بھی فرماتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (746)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، قَالَ:" يُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ يَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَةً فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ، بِمَعْنَاهُ إِلَى مُشَافَهَةً".
اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے، اے میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے، پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ «مشافهة» تک ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1343]
سعید رحمہ اللہ نے قتادہ رحمہ اللہ سے اپنی سند سے اسی مذکورہ حدیث کی مانند روایت کیا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعات پڑھتے، ان میں کسی میں نہ بیٹھتے، صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اللہ کا ذکر اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے اس طرح کہ ہمیں سنواتے (یعنی بلند آواز سے سلام کہتے)، پھر سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے۔ بیٹے! یہ کل گیارہ رکعتیں ہوتیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی عمر کے ہو گئے اور کچھ فربہ بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے۔ سابقہ حدیث کے ہم معنی بالمشافہ سنتا تک بیان کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 16104) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1342) والآتيين (1344، 1345)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں