🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. باب فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی رکعتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1364
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ،أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ قَالَ: بِتُّ عِنْدَهُ لَيْلَةً وَهُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ،" فَنَامَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ اسْتَيْقَظَ، فَقَامَ إِلَى شَنٍّ فِيهِ مَاءٌ، فَتَوَضَّأَ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي كَأَنَّهُ يَمَسُّ أُذُنِي كَأَنَّهُ يُوقِظُنِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، قُلْتُ فَقَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ، ثُمَّ نَامَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى لِلنَّاسِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز (تہجد) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ایک رات میں آپ کے پاس رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے، آپ سو گئے، جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو بیدار ہوئے اور اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے، جس میں پانی رکھا تھا، وضو فرمایا، میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کر لیا، پھر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا جیسے آپ میرے کان مل رہے ہوں گویا مجھے بیدار کرنا چاہتے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ان میں سے ہر رکعت میں آپ نے سورۃ فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مع وتر گیارہ رکعتیں ادا کیں، پھر سو گئے، اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! نماز، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1364]
کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کیسے نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں نے ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب تہائی رات گزر گئی یا آدھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، مشکیزے کی طرف گئے، اس میں پانی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تب میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں طرف کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کان کو چھو رہے ہوں، مجھے جگا رہے ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہلکی ہلکی، میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیرا۔ حتیٰ کہ گیارہ رکعتیں پڑھیں وتر سمیت، پھر سو گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: نماز، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر لوگوں کو نماز پڑھائی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطہارة 37 (183)، الأذان 58 (698)، الوتر 1 (992)، التفسیر 18 (4570)، 19 (4571)، 20 (4572)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الشمائل (265)، سنن النسائی/قیام اللیل 9 (1621)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 181 (1363)، (تحفة الأشراف: 6362)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة اللیل 2 (11)، مسند احمد 1 (222، 358) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (992) صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1365
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ" فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَصَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ حَزَرْتُ قِيَامَهُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِقَدْرِ يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ، لَمْ يَقُلْ نُوحٌ، مِنْهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں، ان میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں، میرا اندازہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ہر رکعت میں سورۃ مزمل کے بقدر ہوتا تھا، نوح کی روایت میں یہ نہیں ہے: اس میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1365]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے اور نماز پڑھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ رکعات پڑھیں، ان میں فجر کی سنتیں بھی شامل تھیں۔ میں نے ہر رکعت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا اندازہ لگایا کہ سورہ مزمل کے برابر تھا۔ نوح نے اپنی روایت میں فجر کی سنتوں کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 22 (807)، والکبری/ الوتر 59 (1425)، (تحفة الأشراف: 5984) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لم يقل نوح منها ركعتا الفجر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1366
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ" فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ، فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آج رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) ضرور دیکھ کر رہوں گا، چنانچہ میں آپ کی چوکھٹ یا دروازے پر ٹیک لگا کر سوئے رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں لمبی، بہت لمبی بلکہ بہت زیادہ لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں ان سے کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی پڑھیں، پھر وتر پڑھی، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1366]
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آج رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا۔ چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے یا خیمے کی چوکھٹ کو اپنا تکیہ بنا لیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ہلکی ہلکی، پھر دو رکعتیں پڑھیں لمبی لمبی، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے قدرے کم لمبی تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو ان سے کم تھیں، پھر (ایک) وتر پڑھا، یہ (مکمل) تیرہ رکعات ہوئیں۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 26 (765)، سنن الترمذی/الشمائل (269)، سنن النسائی/الکبری/قیام اللیل 26 (1336)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 181 (1362)، (تحفة الأشراف: 3753)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 2 (12)، مسند احمد (5/192) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (765)
مشكوة المصابيح (1197)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1367
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ موْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ" وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمِ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُمْتُ، فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي فَأَخَذَ بِأُذُنِي يَفْتِلُهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: سِتَّ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری، وہ آپ کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات یا کچھ کم و بیش گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ کر اپنے منہ پر ہاتھ مل کر نیند دور کی، پھر سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد اٹھے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور وضو کیا اور اچھی طرح سے کیا، پھر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح سارا کام کیا، پھر آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر ملنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں اور پھر دو رکعتیں، قعنبی کی روایت میں یوں ہے: دو دو رکعتیں چھ مرتبہ پڑھیں، پھر وتر پڑھی، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور فجر پڑھائی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1367]
کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو بتایا کہ میں نے ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات گزاری اور وہ ان کی خالہ تھیں۔ فرماتے ہیں: میں تکیے کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، حتیٰ کہ جب آدھی رات ہوئی یا اس سے کچھ پہلے کا وقت ہو گا یا بعد کا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے ہاتھ سے اپنا چہرہ ملا، گویا نیند دور کرتے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ ﴿آل عمران﴾ کی آخری دس آیتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مشکیزے کی طرف گئے جو لٹک رہا تھا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے کھڑے ہو گئے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پھر میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (بائیں) پہلو میں جا کھڑا ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا، میرا کان پکڑا اور اسے کچھ مروڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں۔ قعنبی رحمہ اللہ نے کہا کہ چھ بار (دو دو رکعتیں پڑھیں۔) پھر (ایک) وتر پڑھا۔ اس کے بعد لیٹ گئے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھ کر ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر تشریف لے گئے اور فجر کی نماز پڑھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1367]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (1364)، (تحفة الأشراف: 6362) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (992) صحيح مسلم (763)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں